پھروں مچلنے لگ گئی ہیں انگلياں ایک غزل لکھ دوں کیا تری نام پر
Related Sher
شاخوں سے ٹوٹ جائیں حقیقت پتے نہیں ہیں ہم آندھی سے کوئی کہ دے کہ اوقات ہے وہ ہے وہ رہے
Rahat Indori
435 likes
تمہیں حسن پر دسترسی ہے محبت وہبت بڑا جانتے ہوں تو پھروں یہ بتاؤ کہ جاناں ا سے کی آنکھوں کے بارے ہے وہ ہے وہ کیا جانتے ہوں یہ جغرافیہ فلسفہ سائیکالوجی سائن سے ریاضی وغیرہ یہ سب جاننا بھی اہم ہے م گر ا سے کے گھر کا پتا جانتے ہوں
Tehzeeb Hafi
1279 likes
ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو اتنا دیکھا جتنا دیکھا جا سکتا تھا لیکن پھروں بھی دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا تھا
Farrukh Yar
979 likes
بات کروں روٹھے یاروں سے سناٹوں سے ڈر جاتے ہیں پیار اکیلا جی لیتا ہے دوست اکیلے مر جاتے ہیں
Kumar Vishwas
141 likes
ہم حقیقت ہیں جو خدا کو بھول گئے جاناں مری جان ک سے گمان ہے وہ ہے وہ ہوں
Jaun Elia
563 likes
More from Dev Niranjan
دیر تک پرفیوم مہکے گا تیرا دیر تک خود کو پابندیوں جائےگا
Dev Niranjan
22 likes
کوئی اچھا شعر کہو جاناں پھروں ہے وہ ہے وہ جاناں سے بات کروں گا
Dev Niranjan
26 likes
شاید کہ موت ہی ہوں مری درد کا علاج زار کہ اس کا کو دل سے نکالا لگ جائےگا
Dev Niranjan
41 likes
اکیلے ہے وہ ہے وہ بھی کھلکر ہن سے رہا ہوں اسے یہ سنکے رونا آ رہا ہے
Dev Niranjan
31 likes
دل لگانا آ گیا تو اور دل ہٹانا آ گیا تو کر ہی ڈالا آپنے ماہر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کھیل ہے وہ ہے وہ
Dev Niranjan
28 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Dev Niranjan.
Similar Moods
More moods that pair well with Dev Niranjan's sher.







