فون بھی آیا تو شکوے کے لیے پھول بھی بھیجا تو مرجھایا ہوا راستے کی مشکلیں تو جان لوں آتا ہوگا ا سے کا ٹھکرایا ہوا
Related Sher
اسی لیے تو ہے وہ ہے وہ رویا نہیں بچھڑتے سمے تجھے روا لگ کیا ہے جدا نہیں کیا ہے
Ali Zaryoun
183 likes
لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیں اتنا ڈرتے ہیں تو پھروں گھر سے نکلتے کیوں ہیں موڑ ہوتا ہے جوانی کا سنبھلنے کے لیے اور سب لوگ یہیں آ کے فسلتے کیوں ہیں
Rahat Indori
133 likes
ک سے لیے دیکھتی ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں
Jaun Elia
203 likes
ا سے لیے یہ مہی لگ ہی شامل نہیں عمر کی جنتری ہے وہ ہے وہ ہماری ا سے نے اک دن کہا تھا کہ شا گرا ہے ا سے فروری ہے وہ ہے وہ ہماری
Tehzeeb Hafi
184 likes
یہ مت بھولو کہ یہ لمحات ہم کو چیزیں کے لیے ملوا رہے ہیں
Jaun Elia
143 likes
More from Balmohan Pandey
ہمارا عشق عبادت کا ا گلہ درجہ ہے خدا نے چھوڑ دیا تو تمہارا نام لیا غموں سے بیر تھا سو ہم نے خود کشی کر لی شجر نے گر کے پرندوں سے انتقام لیا
Balmohan Pandey
40 likes
جو شعر سمجھے مجھے داد واد دیتا رہے گلے لگائے جسے غم سمجھ ہے وہ ہے وہ آ جائے
Balmohan Pandey
46 likes
حقیقت مری دنیا کا حصہ تھی مری دنیا نہیں اک شجر کٹنے سے ون ویران ہوں جائےگا کیا
Balmohan Pandey
47 likes
سخن فہموں کی بستی ہے وہ ہے وہ سخن کی زندگی کم ہے ج ہاں شاعر زیادہ ہیں و ہاں پر شاعری کم ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جگنو ہوں اجالے ہے وہ ہے وہ بھلا کیا اہمیت مری و ہاں لے جائیے مجھ کو ج ہاں پر روشنی کم ہے
Balmohan Pandey
40 likes
فون بھی آیا تو شکوے کے لیے پھول بھی بھیجا تو مرجھایا ہوا
Balmohan Pandey
48 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Balmohan Pandey.
Similar Moods
More moods that pair well with Balmohan Pandey's sher.







