पीपल बरगद नीम यहाँ पर छाँव ढूॅंढ़ने आते हैं बूढ़े होते नगर यहाँ पर गाँव ढूॅंढ़ने आते हैं चलते-चलते थकने वाले लोग यहाँ पर आख़िर में मेरे इन क़दमों में अपने पाँव ढूॅंढ़ने आते हैं
Related Sher
جانے کیسے خوش رہنے کی عادت ڈالی جاتی ہے ان کے ی ہاں تو بارش ہے وہ ہے وہ بھی دھوپ نکالی جاتی ہے
Ritesh Rajwada
41 likes
یہ ہوا سارے چراغوں کو ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے جائے گی رات ڈھلنے تک ی ہاں سب کچھ دھواں ہوں جائےگا
Naseer Turabi
34 likes
ی ہاں سے جانے کی جل گرا کس کو ہے جاناں بتاؤ یہ سوٹکیسوں ہے وہ ہے وہ کپڑے ک سے نے رکھے ہوئے ہیں کرا تو لوں گا علاقہ خالی ہے وہ ہے وہ لڑ جھگڑ کر م گر جو ا سے نے دلوں پہ قبضے کیے ہوئے ہیں
Zia Mazkoor
43 likes
शब बसर करनी है, महफ़ूज़ ठिकाना है कोई कोई जंगल है यहाँ पास में ? सहरा है कोई ?
Umair Najmi
47 likes
بوسہ کیسا یہی غنیمت ہے کہ لگ سمجھے حقیقت لذت دشنام
Mirza Ghalib
32 likes
More from nakul kumar
جی بھر گیا تو ہے اب تو جی بھر چاہنے والوں سے بھاگ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ بھی مجھ سے بھاگنے والوں سے
nakul kumar
1 likes
تمہیں جب سمے مل جائے چلے آنا کبھی ملنے ابھر آئی ہیں کچھ باتیں وہی سب بات کرنی ہیں تری آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہ کر پھروں نئے کچھ دن لکیریں ہیں تری زلفوں تلے حقیقت کچھ پرانی رات کرنی ہیں
nakul kumar
1 likes
کہو کیا ہوں گیا تو جو مل لگ پائے یار سے اپنے نہارو چاند کو پھروں یار کے گھر دوار کو دیکھو
nakul kumar
1 likes
زندگی اپنے لیے خود موت بوتی جائے گی شام ہوتے ہی گھنیری رات ہوتی جائے گی ایک دن مری چتا تیار کر لیںگے سبھی اور پھروں شام و سحر برسات ہوتی جائے گی
nakul kumar
5 likes
اسی خاطر تجھے ملتا نہیں ہے وہ ہے وہ آجکل 9 مجھے معلوم ہے یہ من ترا بھر جائےگا مجھ سے
nakul kumar
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on nakul kumar.
Similar Moods
More moods that pair well with nakul kumar's sher.







