جب تک سماج اپنے قوانین پر از سر نو غور نہ کرے گا وہ ’’نجاست‘‘ دور نہ ہوگی جو تہذیب و تمدن کے اس زمانے میں ہر شہر اور ہر بستی کے اندر موجود ہے۔
Related Sher
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے مطابق کیسے تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے
Waseem Barelvi
97 likes
عشق سے اپنے کچھ چنے لمحے انکہے اور انسنے لمحے آؤ مل کر جییں دوبارہ سے سرد راتوں کے گنگنے لمحے
Sandeep Thakur
76 likes
سادہ ہوں اور برانڈز پسند نہیں مجھ کو مجھ پر اپنے پیسے ضائع مت کرنا
Ali Zaryoun
100 likes
اپنے گاہے سے نیچے تو ہے وہ ہے وہ آنے سے رہا شعر بھوکا ہوں م گر گھا سے تو خانے سے رہا
Mehshar Afridi
87 likes
ہے وہ ہے وہ جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا یقین آ جائےگا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے
Bashir Badr
75 likes
More from Saadat Hasan Manto
زندگی بھر یوں مری دل کو دکھایا تھا بے حد قبر پر آیا ہے حقیقت مجھ سے سندلی کے لیے
0 likes
ज़िंदगी भर मैं बोलूँगा तुझ को इश्क़ का यूँँ दग़ाबाज़ है तू
0 likes
جاناں نے ان کو مار گرایا حقیقت بھی تو جاناں کو ماریں گے
0 likes
جاناں نے میرا یقین کیا تھا ہاں یاد آیا نہیں کیا تھا اشکوں کی قبر ہے ج ہاں پر ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سجدہ وہیں کیا تھا
0 likes
یاد کروں گا اتنی شدت سے رب کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری عبادت سے تیرا چہرہ نکھرےگا
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Saadat Hasan Manto.
Similar Moods
More moods that pair well with Saadat Hasan Manto's sher.







