سمندر ادا فہم تھا رک گیا کہ ہم پاؤں پانی پہ دھرنے کو تھے
Related Sher
تمہارے بن گزاری رات کے ب سے دو ہی قصے ہیں کبھی ہچکی نہیں رکتی کبھی سسکی نہیں رکتی
Ankita Singh
87 likes
ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
136 likes
خود کو منوانے کا مجھ کو بھی ہنر آتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قطرہ ہوں سمندر مری گھر آتا ہے
Waseem Barelvi
84 likes
چل گیا تو ہوگا پتا یہ آپ کو بےوفا کہتے ہیں لڑکے آپ کو اک ذرا سے حسن پر اتنی اکڑ تو سمجھتی کیا ہے اپنے آپ کو
Kushal Dauneria
98 likes
کوئی ہونٹوں پہ انگلی رکھ گیا تو ہے اسی دن سے ہے وہ ہے وہ لکھکر بولتا ہوں
Fahmi Badayuni
84 likes
More from Irfan Siddiqi
ہے وہ ہے وہ خواب دیکھ رہا ہوں کہ حقیقت پکارتا ہے اور اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں ہے وہ ہے وہ
Irfan Siddiqi
0 likes
ہٹ کے سر و ساماں اسے رونق محفل سے کبھی سبز موسم ہے وہ ہے وہ تو ہر پیڑ ہرا لگتا ہے
Irfan Siddiqi
8 likes
دیکھتے ہیں تو لہو چنو رگیں توڑتا ہے ہم تو مر جائیں گے سینے سے لگا کر ا سے کو
Irfan Siddiqi
0 likes
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے
Irfan Siddiqi
15 likes
کہا تھا جاناں نے کہ لاتا ہے کون عشق کی تاب سو ہم جواب تمہارے سوال ہی کے تو ہیں
Irfan Siddiqi
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Irfan Siddiqi.
Similar Moods
More moods that pair well with Irfan Siddiqi's sher.







