سو زخم بھر چکے ہوں م گر کہ سکیں غزل اتنی کمی تو آج بھی رہتی ہے تری بن
Related Sher
یہ دکھ ا پیش ہے کہ ا سے سے ہے وہ ہے وہ دور ہوں رہا ہوں یہ غم جدا ہے حقیقت خود مجھے دور کر رہا ہے تری چیزیں پر لکھ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ تازہ غزلیں یہ تیرا غم ہے جو مجھ کو مشہور کر رہا ہے
Tehzeeb Hafi
394 likes
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے
Jaun Elia
206 likes
نہیں لگے گا اسے دیکھ کر م گر خوش ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوش نہیں ہوں م گر دیکھ کر لگے گا نہیں
Umair Najmi
201 likes
تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی
Tehzeeb Hafi
331 likes
اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری لوگ تجھ کو میرا محبوب سمجھتے ہوں گے
Bashir Badr
112 likes
More from Astitwa Ankur
غریب لوگ ک ہاں خود کو بچا پائیں گے وبا سے بچ بھی گئے بھوک سے مر جائیں گے
Astitwa Ankur
21 likes
کم ا گر ہوں بھی گیا تو کون سی حد تک ہوگا درد ہے ٹوٹ کے آدھا تو نہیں ہوں سکتا
Astitwa Ankur
25 likes
آخری پنے پہ بولو کیا لکھوں جاناں ی ہاں تک ساتھ تو آئی نہیں
Astitwa Ankur
21 likes
آج کے دن کبھی سینے سے لگاتے تھے تمہیں اور اب جاناں کو بدھائی بھی نہیں دے سکتے
Astitwa Ankur
22 likes
ہماری موت پر بے شک زما لگ آئےگا رونے م گر زندہ ہیں جب تک چین سے جینے نہیں دےگا
Astitwa Ankur
31 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Astitwa Ankur.
Similar Moods
More moods that pair well with Astitwa Ankur's sher.







