شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا شبِ وصال یعنی محبوب سے ملاقات کی رات۔ گل کرنا یعنی بجھا دینا۔ اس شعر میں شبِ وصال کی مناسبت سے چراغ اور چراغ کی مناسبت سے گل کرنا۔ اور ’خوشی کی بزم میں‘ کی رعایت سے جلنے والے داغ دہلوی کی مضمون آفرینی کی عمدہ مثال ہے۔ شعر میں کئی کردار ہیں۔ ایک شعری کردار، دوسرا وہ( ایک یا بہت سے) جن سے شعری کردار مخاطب ہے۔ شعر میں جو طنز یہ لہجہ ہے اس نے مجموعی صورت حال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔اور جب ’ان چراغوں کو‘ کہا تو گویا کچھ مخصوص چراغوں کی طرف اشارہ کیا۔ شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہیں کہ عاشق و معشوق کے ملن کی رات ہے، اس لئے چراغوں کو بجھا دو کیونکہ ایسی راتوں میں جلنے والوں کا کام نہیں۔ چراغ بجھانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ ملن کی رات میں جو بھی ہو وہ پردے میں رہے مگر جب یہ کہا کہ جلنے والوں کا کیا کام ہے تو شعر کا مفہوم ہی بدل دیا۔ دراصل جلنے والے استعارہ ہیں ان لوگوں کا جو شعری کردار اور اس کے محبوب کے ملن پر جلتے ہیں اور حسد کرتے ہیں۔ اسی لئے کہا ہے کہ ان حسد کرنے والوں کو اس بزم سے اٹھا دو۔
Related Sher
مہرباں ہم پہ ہر اک رات ہوا کرتی تھی آنکھ لگتے ہی ملاقات ہوا کرتی تھی ہجر کی رات ہے اور آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ایسے موسم ہے وہ ہے وہ تو برسات ہوا کرتی تھی
Ismail Raaz
140 likes
ا گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے ذرا سی بوندابان گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے یہ راہ عشق ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں محبت اڑانی والوں کے ب سے کی بات تھوڑی ہے
Abrar Kashif
221 likes
ہزاروں سال نرگ سے اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن ہے وہ ہے وہ دیدہ ور پیدا
Allama Iqbal
207 likes
جو دنیا کو سنائی دے اسے کہتے ہیں خموشی جو آنکھوں ہے وہ ہے وہ دکھائی دے اسے طوفان کہتے ہیں
Rahat Indori
132 likes
ذرا ٹھہرو کہ شب فیکی بے حد ہے تمہیں گھر جانے کی جل گرا بے حد ہے ذرا نزدیک آ کر بیٹھ جاؤ تمہارے شہر ہے وہ ہے وہ سر گرا بے حد ہے
Zubair Ali Tabish
173 likes
More from Dagh Dehlvi
نا امی گرا بڑھ گئی ہے ا سے دودمان آرزو کی آرزو ہونے لگی
Dagh Dehlvi
0 likes
ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے میری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے
Dagh Dehlvi
0 likes
لپٹ جاتے ہیں حقیقت بجلی کے ڈر سے الہی یہ گھٹا دو دن تو برسے
Dagh Dehlvi
24 likes
کیا پوچھتے ہوں کون ہے یہ ک سے کی ہے شہرت کیا جاناں نے کبھی داغ کا دیواں نہیں دیکھا
Dagh Dehlvi
24 likes
خدا کی قسم ا سے نے کھائی جو آج قسم ہے خدا کی مزہ آ گیا تو
Dagh Dehlvi
27 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Dagh Dehlvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Dagh Dehlvi's sher.







