شہر در شہر یہ خاک و خوں کی فضا سوچی سمجھی ہوئی ایک تحریک ہے اونچے محلوں میں بیٹھے رہے اہل زر مفلسوں کے مکانات جلتے رہے
Related Sher
جچنے لگا ہے درد مجھے آپ کا دیا برباد کرنے والے نے ہی آسرا دیا کل پہلی بار لڑنے کی ہمت نہیں ہوئی مجھ کو کسی کے پیار نے نچوا بنا دیا
Kushal Dauneria
60 likes
ہے وہ ہے وہ نے اک عمر سے بٹوے ہے وہ ہے وہ سنبھالی ہوئی ہے وہی تصویر جو اک پل نہیں دیکھی جاتی
Jawwad Sheikh
59 likes
دبی کچلی ہوئی سب خواہشوں کے سر نکل آئی ذرا بڑھانے ہوا تو چیونٹیوں کے پر نکل آئی ابھی اڑتے نہیں تو نقش قدم کے ساتھ ہیں بچے اکیلا چھوڑ دیں گے ماں کو ج سے دن پر نکل آئی
Mehshar Afridi
63 likes
ادا سے لوگ اسی بات سے ہیں خوش کہ چلو ہمارے ساتھ ہوئے حادثوں کی بات ہوئی
Abhishar Geeta Shukla
46 likes
حسین لڑکیاں خوشبوئیں چاندنی راتیں اور ان کے بعد بھی ایسی سڑی ہوئی دنیا
Ameer Imam
58 likes
More from Hami Gorakhpuri
زندگی کا ہر ورق با شوق پڑھیے یہ کتاب اک روز لوٹانی بھی تو ہے
0 likes
جاناں کو الفت ہے وہ ہے وہ شدت ملےگی مری دل ہے وہ ہے وہ اتر کر تو دیکھو
0 likes
یہ ہواؤں کی سنگت کا پھل تھا کہ اب آئینے ہے وہ ہے وہ نہیں دکھتا میرا بدن
0 likes
جاناں نے ان کو مار گرایا حقیقت بھی تو جاناں کو ماریں گے
0 likes
یہ چند بے جان سے ہی اشعار ہیں مری پیار کے خاطر مری غزل ایک بیوہ کے آنسوؤں ہے وہ ہے وہ ا سے طرح ڈوبی ہے
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hami Gorakhpuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Hami Gorakhpuri's sher.







