شاید کہ حقیقت واقف نہیں آداب سفر سے پانی ہے وہ ہے وہ جو قدموں کے نشان ڈھونڈ رہا تھا
Related Sher
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
Allama Iqbal
354 likes
تمہیں ہم بھی ستانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا تمہارا دل دکھانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدنام کرتے پھروں رہے ہوں اپنی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر ہم سچ بتانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا
Santosh S Singh
339 likes
ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا
Bashir Badr
373 likes
اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی
Ali Zaryoun
361 likes
ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
333 likes
More from Sahar Ansari
یہ مرنا جینا بھی شاید مجبوری کی دو لہریں ہیں کچھ سوچ کے مرنا چاہا تھا کچھ سوچ کے جینا چاہا ہے
Sahar Ansari
14 likes
جانے کیوں رنگ بغاوت نہیں چھپنے پاتا ہم تو خاموش بھی ہیں سر بھی جھکائے ہوئے ہیں
Sahar Ansari
14 likes
جسے گزاری گئے ہم بڑے ہنر کے ساتھ حقیقت زندگی تھی ہماری ہنر لگ تھا کوئی
Sahar Ansari
17 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Sahar Ansari.
Similar Moods
More moods that pair well with Sahar Ansari's sher.







