شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے رشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے
Related Sher
ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا
Bashir Badr
373 likes
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
Allama Iqbal
354 likes
ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
333 likes
دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں
Varun Anand
300 likes
ہوا ہی کیا جو حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ملا نہیں بدن ہی صرف ایک راستہ نہیں یہ پہلا عشق ہے تمہارا سوچ لو مری لیے یہ راستہ نیا نہیں
Azhar Iqbal
298 likes
More from Shahryar
تمام عمر کا حساب مانگتی ہے زندگی یہ میرا دل کہے تو کیا کہ خود سے شرمسار ہے
Shahryar
0 likes
عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا تو یاروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے سائے سے کل رات ڈر گیا تو یاروں
Shahryar
30 likes
جہاں ہے وہ ہے وہ ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگا تیرے لبوں پہ میرے لب ہوں ایسا کب ہوگا
Shahryar
0 likes
مری سورج آ مری جسم پہ اپنا سایہ کر بڑی تیز ہوا ہے سر گرا آج غضب کی ہے
Shahryar
31 likes
ہے آج یہ گلہ کہ اکیلا ہے ترسوگے چشمہ آب حیات کل ہجوم ہے وہ ہے وہ تنہائی کے لیے
Shahryar
23 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shahryar.
Similar Moods
More moods that pair well with Shahryar's sher.







