سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں
Related Sher
ہے وہ ہے وہ کیا بتاؤں حقیقت کتنا قریب ہے مری میرا خیال بھی اس کا کو سنائی دیتا ہے حقیقت ج سے نے آنکھ عطا کی ہے دیکھنے کے لیے اسی کو چھوڑ کے سب کچھ دکھائی دیتا ہے
Zubair Ali Tabish
84 likes
جو دنیا کو سنائی دے اسے کہتے ہیں خموشی جو آنکھوں ہے وہ ہے وہ دکھائی دے اسے طوفان کہتے ہیں
Rahat Indori
132 likes
جب چاہیں سو جاتے تھے ہم جاناں سے باتیں کر کے تب الٹی گنتی گننے سے بھی نیند نہیں آتی ہے اب عشق محبت پر تاکتے کے شعر سنائے اس کا کو جب پہلے تھوڑا شرمائی حقیقت پھروں بولی ا سے زار
Tanoj Dadhich
58 likes
ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
136 likes
ٹھیک سے زخم کا اندازہ کیا ہی ک سے نے ب سے سنا تھا کہ بچھڑتے ہیں تو مر جاتے ہیں
Shariq Kaifi
43 likes
More from Ahmad Faraz
جانے ک سے حال ہے وہ ہے وہ ہم ہیں کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھ کے لوگ ایک پل کے لیے رکتے ہیں گزر جاتے ہیں
Ahmad Faraz
0 likes
کسے خبر حقیقت محبت تھی یا رقابت تھی بے حد سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے
Ahmad Faraz
26 likes
تری ہوتے ہوئے محفل ہے وہ ہے وہ جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ
Ahmad Faraz
29 likes
حقیقت بچھاؤ بچھاؤ ہے شاخ گلاب کی مانند ہے وہ ہے وہ ہے وہ زخم زخم ہوں پھروں بھی گلے لگاؤں اسے
Ahmad Faraz
0 likes
ہم تری شوق ہے وہ ہے وہ یوں خود کو گنوا بیٹھے ہیں چنو بچے کسی تہوار ہے وہ ہے وہ گم ہوں جائیں
Ahmad Faraz
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Faraz.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Faraz's sher.







