سنا اقبال عصیاں خلوتوں میں وجہ بخشش ہے کلیساؤں میں یہ طرز عبادت عام ہے ساقی
Related Sher
اب ہے وہ ہے وہ سارے ج ہاں ہے وہ ہے وہ ہوں بدنام اب بھی جاناں مجھ کو جانتی ہوں کیا
Jaun Elia
197 likes
تمہیں حسن پر دسترسی ہے محبت وہبت بڑا جانتے ہوں تو پھروں یہ بتاؤ کہ جاناں ا سے کی آنکھوں کے بارے ہے وہ ہے وہ کیا جانتے ہوں یہ جغرافیہ فلسفہ سائیکالوجی سائن سے ریاضی وغیرہ یہ سب جاننا بھی اہم ہے م گر ا سے کے گھر کا پتا جانتے ہوں
Tehzeeb Hafi
1279 likes
گھر ہے وہ ہے وہ بھی دل نہیں لگ رہا کام پر بھی نہیں جا رہا جانے کیا خوف ہے جو تجھے چوم کر بھی نہیں جا رہا رات کے تین بجنے کو ہے یار یہ کیسا محبوب ہے جو گلے بھی نہیں لگ رہا اور گھر بھی نہیں جا رہا
Tehzeeb Hafi
294 likes
اب ضروری تو نہیں ہے کہ حقیقت سب کچھ کہ دے دل ہے وہ ہے وہ جو کچھ بھی ہوں آنکھوں سے نظر آتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے صرف یہ کہتا ہوں کہ گھر جانا ہے اور حقیقت مارنے مرنے پہ اتر آتا ہے
Tehzeeb Hafi
285 likes
ا سے لڑکی سے ب سے اب اتنا رشتہ ہے مل جائے تو بات وغیرہ کرتی ہے بارش مری رب کی ایسی نعمت ہے رونے ہے وہ ہے وہ آسانی پیدا کرتی ہے
Tehzeeb Hafi
285 likes
More from Mani Nagpuri
زندگی بھر یوں مری دل کو دکھایا تھا بے حد قبر پر آیا ہے حقیقت مجھ سے سندلی کے لیے
0 likes
ज़िंदगी भर मैं बोलूँगा तुझ को इश्क़ का यूँँ दग़ाबाज़ है तू
0 likes
ذرا جاناں اپنی حد ہے وہ ہے وہ رہنے کی کوشش کروں ورنا تمہارے عیب سے اک دن تمہیں بدنام کر دیں گے
0 likes
ذرا رکھ لے تو نام ا سے کا لبوں پر خدا کی عبادت ہے وہ ہے وہ راحت ملےگی
0 likes
ان کا قبضہ ہے دل پہ مری زندہ رہنا اب مشکل ہے
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mani Nagpuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Mani Nagpuri's sher.







