تمام مسئلے اٹھائے پھروں رہے ہیں ہم اسی لیے بھی چلتے چلتے تھک گئے ہیں ہم تھے کتنے کم نصیب ہم کہ رابطہ لگ تھا ہیں کتنے خوش نصیب تجھ کو چھو رہے ہیں ہم
Related Sher
تمہیں حسن پر دسترسی ہے محبت وہبت بڑا جانتے ہوں تو پھروں یہ بتاؤ کہ جاناں ا سے کی آنکھوں کے بارے ہے وہ ہے وہ کیا جانتے ہوں یہ جغرافیہ فلسفہ سائیکالوجی سائن سے ریاضی وغیرہ یہ سب جاننا بھی اہم ہے م گر ا سے کے گھر کا پتا جانتے ہوں
Tehzeeb Hafi
1279 likes
ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو اتنا دیکھا جتنا دیکھا جا سکتا تھا لیکن پھروں بھی دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا تھا
Farrukh Yar
979 likes
کسی گلی ہے وہ ہے وہ کرائے پہ گھر لیا ا سے نے پھروں ا سے گلی ہے وہ ہے وہ گھروں کے کرائے بڑھنے لگے
Umair Najmi
162 likes
ہم کو دل سے بھی نکالا گیا تو پھروں شہر سے بھی ہم کو پتھر سے بھی مارا گیا تو پھروں زہر سے بھی
Azm Shakri
157 likes
بات کروں روٹھے یاروں سے سناٹوں سے ڈر جاتے ہیں پیار اکیلا جی لیتا ہے دوست اکیلے مر جاتے ہیں
Kumar Vishwas
141 likes
More from Siddharth Saaz
تو بجھا کر رکھ گیا تو تھا جب سے ا سے دل کے چراغ ہم نے ا سے گھر ہے وہ ہے وہ نہیں کی روشنائی آج تک
Siddharth Saaz
1 likes
ہونٹ جو کہتے ہے سب کچھ جھوٹ ہے آنکھ سچ کہتی ہے ا سے کی بات سن
Siddharth Saaz
2 likes
ہم لوگ چونکہ دشت کے پالے ہوئے ہیں سو خوابوں ہے وہ ہے وہ چاہے جھیل ہوں آنکھوں ہے وہ ہے وہ پیڑ ہیں
Siddharth Saaz
2 likes
اب نہیں ہیں لوگ جو دنیا تھے پہلے اور یہ دنیا بھی اب دنیا نہیں ہے
Siddharth Saaz
11 likes
یہ جانتے ہیں ٹھیک نہیں مانگ رہے ہیں ہم ایک کھنڈر کو جلوے مانگ رہے ہیں سب مانگ رہے ہیں خدا سے تیرا جسم اور ہم ہیں کہ فقط تیری جبیں مانگ رہے ہیں
Siddharth Saaz
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Siddharth Saaz.
Similar Moods
More moods that pair well with Siddharth Saaz's sher.







