ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا یہ شعر اسرارالحق مجاز کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ ماتھے پہ آنچل ہونے کے کئی معنی ہیں۔ مثلاً شرم وحیا ہونا، اقدار کا پاس ہوناوغیرہ اور ہندوستانی معاشرے میں ان چیزوں کو عورت کا زیور سمجھا جاتا ہے۔مگر جب عورت کے اس زیور کو مرد اساس معاشرے میں عورت کی کمزوری سمجھا جاتا ہے تو عورت کی شخصیت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ شاعر نے اسی حقیقت کو اپنے شعر کا مضمون بنایا ہے۔ شاعر عورت سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ اگرچہ تمہارے ماتھے پر شرم و حیا کا آنچل خوب لگتا ہے مگر اسے اپنی کمزوری مت بنا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تم اپنے آنچل سے انقلاب کا پرچم بنا اور اپنے حقوق کے لئے اس پرچم کو بلند کرو۔ شفق سوپوری
Related Sher
شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ
Jaun Elia
839 likes
ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو اتنا دیکھا جتنا دیکھا جا سکتا تھا لیکن پھروں بھی دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا تھا
Farrukh Yar
979 likes
گلے ملنا لگ ملنا تو تیری مرضی ہے لیکن تری چہرے سے لگتا ہے تیرا دل کر رہا ہے
Tehzeeb Hafi
575 likes
حقیقت افسا لگ جسے انجام تک لانا لگ ہوں ممکن اسے اک خوبصورت موڑ دے کر کھڑکیاں اچھا
Sahir Ludhianvi
206 likes
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے خوش رکھنے کو تاکتے یہ خیال اچھا ہے
Mirza Ghalib
489 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Asrarul Haq Majaz.
Similar Moods
More moods that pair well with Asrarul Haq Majaz's sher.







