اجالا علم کا پھیلا تو ہے چاروں طرف یارو بصیرت آدمی کی کچھ مگر کم ہوتی جاتی ہے
Related Sher
کیسے آکاش ہے وہ ہے وہ سوراخ نہیں ہوں سکتا ایک پتھر تو طبیعت سے اچھالو یاروں
Dushyant Kumar
91 likes
ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا
Bashir Badr
373 likes
اتنا پیارا ہے حقیقت چہرہ کہ نظر پڑتے ہی لوگ ہاتھوں کی لکیروں کی طرف دیکھتے ہیں
Nadir Ariz
60 likes
حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف
Varun Anand
264 likes
ہے وہ ہے وہ جنگلوں کی طرف چل پڑا ہوں چھوڑ کے گھر یہ کیا کہ گھر کی اداسی بھی ساتھ ہوں گئی ہے
Tehzeeb Hafi
54 likes
More from Sada Ambalvi
Similar Writers
Our suggestions based on Sada Ambalvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Sada Ambalvi's sher.







