وہی تو مرکزی کردار ہے کہانی کا اسی پہ ختم ہے تاثیر بے وفائی کی
Related Sher
جو طوفانوں ہے وہ ہے وہ پالتے جا رہے ہیں وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں
Jigar Moradabadi
97 likes
مجھے خراب کیا ا سے نے ہاں کیا ہوگا اسی سے پوچھیے مجھ کو خبر زیادہ نہیں
Zafar Iqbal
52 likes
اسی کا منتظر بھی ہے ہمارا دل اسی کو بھول لگ بھی چاہتے ہے ہم
Rohit Gustakh
55 likes
تو ہر اک بات پہ جو روٹھ کے جانے کو کہتا ہے ترا کردار ہے بے حد اہم مری کہانی ہے وہ ہے وہ
nakul kumar
69 likes
بے پناہ مجھ سے پھروں خفا کیوں ہے یہ کہانی ہی ہر دفع کیوں ہے کچھ بھی مجبوری تو نہیں دکھتی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا جانوں حقیقت بےوفا کیوں ہے
Sandeep Thakur
80 likes
More from Iqbal Ashhar
ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی سمے نے پتھر صفت بنا ڈالا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے موم کی صورت پگھلنے والے لوگ ستم تو یہ کہ ہماری صفوں ہے وہ ہے وہ شامل ہیں چراغ بجھتے ہی خیمہ بدلنے والے لوگ
Iqbal Ashhar
15 likes
حقیقت کسی کو یاد کر کے مسکرایا تھا ادھر اور ہے وہ ہے وہ نادان یہ سمجھا کہ حقیقت میرا ہوا
Iqbal Ashhar
40 likes
آج پھروں نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا آج پھروں یاد کوئی چوٹ پرانی آئی
Iqbal Ashhar
29 likes
مدتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچل مدتوں بعد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نیند سہانی آئی
Iqbal Ashhar
47 likes
حقیقت جو خواب تھے مری ذہن ہے وہ ہے وہ لگ ہے وہ ہے وہ کہ سکا لگ ہے وہ ہے وہ لکھ سکا کہ زبان ملی تو کٹی ہوئی جو ملا تو بکا ہوا
Iqbal Ashhar
42 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Iqbal Ashhar.
Similar Moods
More moods that pair well with Iqbal Ashhar's sher.







