حقیقت اک ن گرا جو کبھی تیز تیز بہتی تھی حقیقت آج ریت کے میدان سی بچھی ہوئی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک درخت تھا اشرف کسی زمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھوکھلا کے قہر سے اب ٹھونٹھ ہی بچی ہوئی ہے
Related Sher
جگہ کی قید نہیں تھی کوئی کہی بیٹھے ج ہاں مقام ہمارا تھا ہم وہیں بیٹھے امیر شہر کے آنے پہ اٹھنا پڑتا ہے لہذا اگلی صفوں ہے وہ ہے وہ کبھی نہیں بیٹھے
Mehshar Afridi
58 likes
محبت ہے وہ ہے وہ سمجھداری سے 9 کام لیتے ہیں کہیں محبوب حقیقت کہتے کہیں حقیقت نام لیتے ہیں مچلتا ہے کبھی جو دل کریں باتیں نگاہوں سے اجازت دھڑکنے دیتیں حقیقت دل کو تھام لیتے ہیں
Rohit Gustakh
56 likes
آنکھ آنسو کو ایسے رستہ دیتی ہے چنو ریت گزرنے دریا دیتی ہے کوئی بھی اس کا کو جیت نہیں پایا اب تک ویسے حقیقت ہر ایک کو موقع دیتی ہے
Kafeel Rana
53 likes
کبھی اللہ میاں پوچھیں گے تب ان کو بتائیں گے کسی کو کیوں بتائیں ہم عبادت کیوں نہیں کرتے
Farhat Ehsaas
53 likes
ان کے دکھوں کو شعر ہے وہ ہے وہ کہنا تو تھا م گر لڑکے سمجھ لگ پائیں کبھی لڑ کیوں کا دکھ
Ankit Maurya
55 likes
More from Ashraf Ali
روز کھوتا ہوں خیالوں ہے وہ ہے وہ تمہاری جاناں روز دھندلی ہوئی تصویر ابھر آتی ہے
Ashraf Ali
3 likes
آہ یوں ٹوٹا بھرم سب کچھ الزامات ان سے کی لگ ساد غم سب کچھ الزامات
Ashraf Ali
3 likes
کوئی دستک ہوئی دریچے سے تتلیاں اڑ گئیں بغیچے سے تھوڑی شائستگی ضروری ہے ٹوٹ جاتی ہے ڈور کھینچے سے
Ashraf Ali
4 likes
فیلحال مری غم کی دوا کچھ بھی نہیں ہے سب ٹھیک نہیں اور ہوا کچھ بھی نہیں ہے جاناں بھی وہی ہم بھی وہی حالات وہی ہیں ہر بات پرانی ہے نیا کچھ بھی نہیں ہے
Ashraf Ali
4 likes
بات آگے بڑھ چکی ہے ب سے ذرا سی بات پر انگلياں اٹھنے لگی ہیں اب ہماری ذات پر اپنی مرضی کے مطابق ہی تمہیں کرتا ہوں یاد ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے آب پا لیا ہے نف سے پر جذبات پر
Ashraf Ali
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ashraf Ali.
Similar Moods
More moods that pair well with Ashraf Ali's sher.







