سمے وفا حق آنسو شکوے جانے کیا کیا مانگ رہے تھے ایک سہولت کے رشتے سے ہم ہی زیادہ مانگ رہے تھے ا سے کی آنکھیں ا سے کی باتیں ا سے کے لب حقیقت چہرہ ا سے کا ہم ا سے کی ہر ایک ادا سے اپنا حصہ مانگ رہے تھے
Related Sher
مدتیں گزر گئی حساب نہیں کیا لگ جانے اب ک سے کے کتنے رہ گئے ہم
Kumar Vishwas
271 likes
کیا غلط فہمی ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا صدمہ کچھ نہیں حقیقت مجھے سمجھا تو سکتا تھا کہ ایسا کچھ نہیں عشق سے بچ کر بھی بندہ کچھ نہیں ہوتا مگر یہ بھی سچ ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندے کا اختیار کچھ نہیں
Tehzeeb Hafi
306 likes
گھر ہے وہ ہے وہ بھی دل نہیں لگ رہا کام پر بھی نہیں جا رہا جانے کیا خوف ہے جو تجھے چوم کر بھی نہیں جا رہا رات کے تین بجنے کو ہے یار یہ کیسا محبوب ہے جو گلے بھی نہیں لگ رہا اور گھر بھی نہیں جا رہا
Tehzeeb Hafi
294 likes
نام پہ ہم قربان تھے ا سے کے لیکن پھروں یہ طور ہوا ا سے کو دیکھ کے رک جانا بھی سب سے بڑی قربانی تھی مجھ سے بچھڑ کر بھی حقیقت لڑکی کتنی خوش خوش رہتی ہے ا سے لڑکی نے مجھ سے بچھڑ کر مر جانے کی ٹھانی تھی
Jaun Elia
183 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
285 likes
More from Shikha Pachouly
Similar Writers
Our suggestions based on Shikha Pachouly.
Similar Moods
More moods that pair well with Shikha Pachouly's sher.







