حقیقت مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھا سائے پھیلا کے شجر کیا کرتے
Related Sher
دھوپ ہے وہ ہے وہ نکلو گھٹاؤں ہے وہ ہے وہ نہا کر دیکھو زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو
Nida Fazli
136 likes
رشتوں کی یہ چھوؤں گا ڈوریں دکھتی تھوڑی جاتی ہیں اپنی آنکھیں پھوڑی ہوں تو فوڑی تھوڑی جاتی ہیں یہ کانٹے یہ دھوپ یہ پتھر ان سے کیسا ڈرنا ہے راہیں مشکل ہوں جائیں تو کانٹے تھوڑی جاتی ہیں
Subhan Asad
46 likes
یوں دیکھیے تو آندھی ہے وہ ہے وہ ب سے اک شجر گیا تو لیکن لگ جانے کتنے پرندوں کا گھر گیا تو چنو غلط پتے پہ چلا آئی کوئی بے وجہ سکھ ایسے مری در پہ رکا اور گزر گیا تو
Rajesh Reddy
46 likes
کسی کے سائے کو قید کرنے کا ایک طریقہ بتا رہا ہوں ایک ا سے کے آگے چراغ رکھ دے ایک ا سے کے پیچھے چراغ رکھ دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کی باتوں ہے وہ ہے وہ آ گیا تو اور اٹھا کے لے آیا ا سے کی پائل دماغ دیتا رہا صدائیں چراغ رکھ دے چراغ رکھ دے
Charagh Sharma
44 likes
ہے وہ ہے وہ بے حد خوش تھا کڑی دھوپ کے سناٹے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں تیری یاد کا بادل مری سر پر آیا
Ahmad Mushtaq
38 likes
More from Parveen Shakir
ا سے سے اک بار تو روٹھوں ہے وہ ہے وہ اسی کی مانند اور مری طرح سے حقیقت مجھ کو منانے آئی
Parveen Shakir
9 likes
مر بھی جاؤں تو ک ہاں لوگ بھلا ہی دیں گے لفظ مری مری ہونے کی گواہی دیں گے
Parveen Shakir
15 likes
یہ کیا کہ حقیقت جب چاہے مجھے چھین لے مجھ سے اپنے لیے حقیقت بے وجہ تڑپتا بھی تو دیکھوں
Parveen Shakir
16 likes
کیا کرے مری مسیحائی بھی کرنے والا زخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والا
Parveen Shakir
26 likes
یہ دکھ نہیں کہ اندھیرو سے صلح کی ہم نے ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں
Parveen Shakir
13 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Parveen Shakir.
Similar Moods
More moods that pair well with Parveen Shakir's sher.







