یہ کیسے ملبے کے نیچے دبا دیا گیا تو ہوں مجھے بدن سے نکالو ہے وہ ہے وہ تنگ آ گیا تو ہوں
Related Sher
مجھ سے مت پوچھو کے ا سے بے وجہ ہے وہ ہے وہ کیا اچھا ہے اچھے اچھوں سے مجھے میرا برا اچھا ہے ک سے طرح مجھ سے محبت ہے وہ ہے وہ کوئی جیت گیا تو یہ لگ کہ دینا کے بستر ہے وہ ہے وہ بڑا اچھا ہے
Tehzeeb Hafi
566 likes
ہم کو دل سے بھی نکالا گیا تو پھروں شہر سے بھی ہم کو پتھر سے بھی مارا گیا تو پھروں زہر سے بھی
Azm Shakri
157 likes
کیا بولا مجھے خود کو تمہارا نہیں کہنا یہ بات کبھی مجھ سے دوبارہ نہیں کہنا یہ حکم بھی ا سے جان سے پیاری نے دیا ہے کچھ بھی ہوں مجھے جان سے پیارا نہیں کہنا
Ali Zaryoun
116 likes
ہوئی مدت کہ تاکتے مر گیا تو پر یاد آتا ہے حقیقت ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
Mirza Ghalib
149 likes
دن ڈھل گیا تو اور رات گزرنے کی آ سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سورج ن گرا ہے وہ ہے وہ ڈوب گیا تو ہم گلا سے ہے وہ ہے وہ
Rahat Indori
124 likes
More from Irfan Sattar
نہیں نہیں ہے وہ ہے وہ بے حد خوش رہا ہوں تری بغیر یقین کر کہ یہ حالت ابھی ابھی ہوئی ہے
Irfan Sattar
0 likes
ख़ुशबू था मैं बिखरना मेरा इख़्तिसास था इन ज़िम्मेदारियों ने इकट्ठा किया मुझे
Irfan Sattar
0 likes
کسی آہٹ ہے وہ ہے وہ آہٹ کے سوا کچھ بھی نہیں اب کسی صورت ہے وہ ہے وہ صورت کے سوا کیا رہ گیا تو ہے
Irfan Sattar
0 likes
اک چبھن ہے کہ جو بےچین کیے رہتی ہے ایسا لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا تو ہے مجھ ہے وہ ہے وہ
Irfan Sattar
7 likes
ا سے کی خواہش پہ جاناں کو بھروسا بھی ہے ا سے کے ہونے لگ ہونے کا جھگڑا بھی ہے لطف آیا تمہیں گمراہی نے کہا گمراہی کے لیے ایک تازہ غزل
Irfan Sattar
15 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Irfan Sattar.
Similar Moods
More moods that pair well with Irfan Sattar's sher.







