ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
Related Sher
ا گر ہے عشق سچا تو نگا ہوں سے بیاں ہوگا زبان سے بولنا بھی کیا کوئی اظہار ہوتا ہے
Bhaskar Shukla
130 likes
مہرباں ہم پہ ہر اک رات ہوا کرتی تھی آنکھ لگتے ہی ملاقات ہوا کرتی تھی ہجر کی رات ہے اور آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ایسے موسم ہے وہ ہے وہ تو برسات ہوا کرتی تھی
Ismail Raaz
140 likes
دل سے ثابت کروں کہ زندہ ہوں سان سے لینا کوئی ثبوت نہیں
Fahmi Badayuni
139 likes
جاناں پوچھو اور ہے وہ ہے وہ لگ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں
Qateel Shifai
125 likes
طوفانوں سے آنکھ ملاؤ بٹھاتا پہ وار کروں ملاحوں کا چکر چھوڑو تیر کے دریا پار کروں
Rahat Indori
144 likes
More from Allama Iqbal
لگ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی نشمن سیکڑوں ہے وہ ہے وہ نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں
Allama Iqbal
29 likes
وطن کی فکر کر نادان مصیبت آنے والی ہے تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں ہے وہ ہے وہ
Allama Iqbal
0 likes
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں اکتے ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوں جائے گی
Allama Iqbal
7 likes
ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہے وہ ہے وہ حفیظ اپنے آپ کو آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں ہے وہ ہے وہ
Allama Iqbal
4 likes
انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں
Allama Iqbal
34 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Allama Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Allama Iqbal's sher.







