زباں قاصد کی مضطرؔ کاٹ لی جب ان کو خط بھیجا کہ آخر آدمی ہے تذکرہ شاید کہیں کر دے
Related Sher
ا گر ہے عشق سچا تو نگا ہوں سے بیاں ہوگا زبان سے بولنا بھی کیا کوئی اظہار ہوتا ہے
Bhaskar Shukla
130 likes
ہے وہ ہے وہ ا سے سے بات کرنے جا چکا تھا م گر حقیقت بے وجہ آگے جا چکا تھا پڑھائی ختم کر کے جب ہے وہ ہے وہ لوٹا کوئی بے معانی اسے لے جا چکا تھا
Tousief Tabish
51 likes
کسی بہانے سے ا سے کی ناراضگی ختم تو کرنی تھی ا سے کے پسندیدہ شاعر کے شعر اسے بھیجوائے ہیں
Ali Zaryoun
67 likes
کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
Rehman Faris
61 likes
کبوتر کو پتا ہے گھر تمہارا ملےگا چھت پہ جاناں کو خط ہمارا
Aqib Jawed
67 likes
More from Muztar Khairabadi
حقیقت کریںگے وصل کا وعدہ وفا رنگ گہرے ہیں ہماری شام کے
Muztar Khairabadi
31 likes
بوسے اپنے ساقی مہ وش کے لا مجھے دے دے تری ک سے کام کے
Muztar Khairabadi
25 likes
لڑائی ہے تو اچھا رات بھر یوں ہی بسر کر لو ہم اپنا منا ادھر کر لیں جاناں اپنا منا ادھر کر لو
Muztar Khairabadi
47 likes
وفا کیا کر نہیں سکتے ہیں حقیقت لیکن نہیں کرتے کہا کیا کر نہیں سکتے ہیں حقیقت لیکن نہیں کرتے
Muztar Khairabadi
34 likes
حقیقت گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں آج کل گر میاں ہیں جاڑوں ہے وہ ہے وہ
Muztar Khairabadi
45 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Muztar Khairabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Muztar Khairabadi's sher.







