زخم رستا ہے دواؤں کا اثر ہونے تک ہم لگ مٹ جائیں کہی ان کو خبر ہونے تک
Related Sher
ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیں محبت کی اسی مٹی کو ہندوستان کہتے ہیں
Rahat Indori
212 likes
مری نام سے کیا زار ہے تمہیں مٹ جائےگا یا رہ جاتا ہے جب جاناں نے ہی ساتھ نہیں رہنا پھروں پیچھے کیا رہ جاتا ہے مری پا سے آنے تک اور کسی کی یاد اسے کھا جاتی ہے حقیقت مجھ تک کم ہی پہنچتا ہے کسی اور جگہ رہ جاتا ہے
Tehzeeb Hafi
213 likes
محنت تو کرتا ہوں پھروں بھی گھر خالی ہے بابوجی مٹی کے کچھ دیپک لے لو دیوالی ہے بابوجی مٹی بیچ رہا ہوں ج سے ہے وہ ہے وہ کوئی جال فریب نہیں سونا چان گرا دودھ مٹھائی سب نمازیوں ہے بابوجی
Gyan Prakash Akul
61 likes
جاناں بڑے اچھے سمے پر آئی آج اک زخم کی ضرورت تھی
Zubair Ali Tabish
78 likes
لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
Unknown
80 likes
More from Navneet krishna
غم زدہ گیت گنگنانا ہے حال دل آپ کو سنہانا ہے
Navneet krishna
0 likes
آپ کو اپنا بنانا چاہتا ہوں اک نئی دنیا بسانا چاہتا ہوں آپ کو ہے وہ ہے وہ آزمانا چاہتا ہوں اک نیا یہ کارنامہ چاہتا ہوں
Navneet krishna
2 likes
اک انقلاب نیا آج ہوں گیا تو ہے کیا مجھے زمانے نے خود ہی بدل دیا ہے کیا
Navneet krishna
2 likes
یقین کس طرح کوئی بچھاتی کرےگا وہ کھاتے ہیں جھوٹی قسم دیکھتے ہیں نہیں جس کی تعبیر کوئی جہاں میں وہی خواب ہم اے صنم دیکھتے ہیں
Navneet krishna
2 likes
مجھ کو یہ نظر آیا کے حقیقت ایک بلا ہے کچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرز اے ادا ہے حقیقت غیر کی آغوش ہے وہ ہے وہ رہنے لگا شاداں اس کا کا کو نہیں معلوم کے دل میرا جلا ہے
Navneet krishna
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Navneet krishna.
Similar Moods
More moods that pair well with Navneet krishna's sher.







