ضمیر بیچ کے یہ بھی امیر ہوں جاتے ا گر غریبوں ہے وہ ہے وہ خودداریاں نہیں ہوتی
Related Sher
ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
136 likes
بات کروں روٹھے یاروں سے سناٹوں سے ڈر جاتے ہیں پیار اکیلا جی لیتا ہے دوست اکیلے مر جاتے ہیں
Kumar Vishwas
141 likes
ا گر ہے عشق سچا تو نگا ہوں سے بیاں ہوگا زبان سے بولنا بھی کیا کوئی اظہار ہوتا ہے
Bhaskar Shukla
130 likes
حسن بلا کا قاتل ہوں پر آخر کو بیچارا ہے عشق تو حقیقت قاتل ج سے نے اپنوں کو بھی مارا ہے یہ دھوکے دیتا آیا ہے دل کو بھی دنیا کو بھی ا سے کے چل نے خار کیا ہے صحرا ہے وہ ہے وہ لیلیٰ کو بھی
Jaun Elia
129 likes
یہ ہم ہی ہیں کہ کسی کے ا گر ہوئے تو ہوئے تمہارا کیا ہے کوئی ہوگا کوئی تھا کوئی ہے
Irfan Sattar
66 likes
More from ''Akbar Rizvi"
نصرت حق دیکھنا عاشور تک لے جائے گی حسرت دیدار کوہ طور تک لے جائے گی
''Akbar Rizvi"
0 likes
ج سے کو رہتی ہے ہر گھڑی تیری فکر ایسے عاشق سے دل لگی کرنا
''Akbar Rizvi"
0 likes
کوئی اٹھتا نہیں مظلوم کا حامی بنکر کب تلک ظلم پا خاموش رہےگی دنیا
''Akbar Rizvi"
1 likes
بعد مرنے کے میرا ذکر کرے گی دنیا زندگی ہے وہ ہے وہ تو کوئی پوچھنے والا لگ ملا
''Akbar Rizvi"
1 likes
مری کے پیچھے چل رہا ہے ہر بشر ہر بشر کے پیچھے لیکن ہے فرشتہ موت کا
''Akbar Rizvi"
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on ''Akbar Rizvi".
Similar Moods
More moods that pair well with ''Akbar Rizvi"'s sher.







