sherKuch Alfaaz

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا چکبست کا یہ شعر بہت مشہور ہے۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا: ہو گئے مضمحل قویٰ غالبؔ اب عناصر میں اعتدال کہاں انسانی جسم کچھ عناصر کی ترتیب سے تشکیل پاتا ہے۔ حکماء کی نظر میں وہ عناصر آگ، ہوا، مٹی اور پانی ہے۔ ان عناصر میں جب انتشار پیدا ہوتا ہے تو انسانی جسم اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے۔یعنی غالب کی زبان میں جب عناصر میں اعتدال نہیں رہتا تو قویٰ یعنی مختلف قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ چکبست اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جب تک انسانی جسم میں عناصر ترتیب کے ساتھ رہتے ہیں آدمی زندہ رہتا ہے۔ اور جب یہ عناصر پریشان ہوجاتے ہیں یعنی ان میں توزن اور اعتدال نہیں رہتا تو موت واقع ہو جاتی ہے۔ شفق سوپوری

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Chakbast Braj Narayan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Chakbast Braj Narayan's sher.