ظلم کے قصے سنائے جب کبھی تفسیر سے خون دھیرے سے اتر آیا مری تصویر سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے یوں لپٹ کر رو نہیں سکتا فقط آ سماں نے باندھ رکھا ہے مجھے زنجیر سے
Related Sher
ہے وہ ہے وہ ا سے سے یہ تو نہیں کہ رہا جدا لگ کرے م گر حقیقت کر نہیں سکتا تو پھروں کہا لگ کرے حقیقت چنو چھوڑ گیا تو تھا مجھے اسے بھی کبھی خدا کرے کہ کوئی چھوڑ دے خدا لگ کرے
Tehzeeb Hafi
266 likes
کبھی تو چونک کے دیکھے کوئی ہماری طرف کسی کی آنکھ ہے وہ ہے وہ ہم کو بھی انتظار دیکھے
Gulzar
88 likes
دولت شہرت بیوی بچے اچھا گھر اور اچھے دوست کچھ تو ہے جو ان کے بعد بھی حاصل کرنا باقی ہے کبھی کبھی تو دل کرتا ہے چلتی ریل سے کود پڑوں پھروں کہتا ہوں پاگل اب تو تھوڑا رستہ باقی ہے
Zia Mazkoor
91 likes
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں ہے وہ ہے وہ ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں ہے وہ ہے وہ ملیں
Ahmad Faraz
95 likes
دشمنی جم کر کروں لیکن یہ گنجائش رہے جب کبھی ہم دوست ہوں جائیں تو شرمندہ لگ ہوں
Bashir Badr
81 likes
More from Nikhil Tiwari 'Nazeel'
یہ کہ میرا آ سماں جو آ گیا تو نظر تمہیں بارشیں سکھا رہی ہیں اک نیا ہنر تمہیں
Nikhil Tiwari 'Nazeel'
0 likes
پھروں روز کی طرح کا وہی غم سمیٹنا اوپر سے ا سے شراب سے اکتا گیا تو تھا ہے وہ ہے وہ
Nikhil Tiwari 'Nazeel'
0 likes
پوچھنا حال دیکھے جب بھی پریشاں ہوتے تھک گیا تو ہے ترا یہ شہر فروزاں ہوتے
Nikhil Tiwari 'Nazeel'
0 likes
تو نے خوف مانگا تھا ہے وہ ہے وہ لے آیا تجھ کو کیا کرنا ا سے سے جو گروی ہے
Nikhil Tiwari 'Nazeel'
0 likes
اپناپن چھپانے کہ ضد پر اڑے تھے یہ حقیقت لوگ تھے جو کہ سب ہے وہ ہے وہ بڑے تھے
Nikhil Tiwari 'Nazeel'
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nikhil Tiwari 'Nazeel'.
Similar Moods
More moods that pair well with Nikhil Tiwari 'Nazeel''s sher.







