ویسے تو اک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائے ایسے کوئی طوفان ہلا بھی نہیں سکتا
Poetry Collection
Aansoo
Tears have a language; they express a condition of being. All of us shed tears for different reasons on different occasions. While tears are generally an expression of sorrow, they also express a rare pleasure on certain occasions. Lovers too shed tears but those tears probably tell more than what we generally know about. Here are some verses that reveal the meaning of tears.
Total
61
Sher
50
Ghazal
11
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے
ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا
رونے والے تجھے رونے کا سلیقہ ہی نہیں اشک پینے کے لیے ہیں کہ بہانے کے لیے
ایک آنسو نے ڈبویا مجھ کو ان کی بزم میں بوند بھر پانی سے ساری آبرو پانی ہوئی
ان کے رخسار پہ ڈھلکے ہوئے آنسو توبہ میں نے شبنم کو بھی شعلوں پہ مچلتے دیکھا
آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا
میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں
حسیں تیری آنکھیں حسیں تیرے آنسو یہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے
اس قدر رویا ہوں تیری یاد میں آئینے آنکھوں کے دھندلے ہو گئے
کیا کہوں کس طرح سے جیتا ہوں غم کو کھاتا ہوں آنسو پیتا ہوں
جو آگ لگائی تھی تم نے اس کو تو بجھایا اشکوں نے جو اشکوں نے بھڑکائی ہے اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے
مرے اشک بھی ہیں اس میں یہ شراب ابل نہ جائے مرا جام چھونے والے ترا ہاتھ جل نہ جائے
پھر مری آنکھ ہو گئی نمناک پھر کسی نے مزاج پوچھا ہے
گھاس میں جذب ہوئے ہوں گے زمیں کے آنسو پاؤں رکھتا ہوں تو ہلکی سی نمی لگتی ہے
اور کچھ تحفہ نہ تھا جو لاتے ہم تیرے نیاز ایک دو آنسو تھے آنکھوں میں سو بھر لائے ہیں ہم
اشک غم دیدۂ پر نم سے سنبھالے نہ گئے یہ وہ بچے ہیں جو ماں باپ سے پالے نہ گئے
یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے
میری آنکھوں میں ہیں آنسو تیرے دامن میں بہار گل بنا سکتا ہے تو شبنم بنا سکتا ہوں میں
یوں ہی آنکھوں میں آ گئے آنسو جائیے آپ کوئی بات نہیں
ویسے تو اک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائے ایسے کوئی طوفان ہلا بھی نہیں سکتا
مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے
ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا
رونے والے تجھے رونے کا سلیقہ ہی نہیں اشک پینے کے لیے ہیں کہ بہانے کے لیے
ایک آنسو نے ڈبویا مجھ کو ان کی بزم میں بوند بھر پانی سے ساری آبرو پانی ہوئی
ان کے رخسار پہ ڈھلکے ہوئے آنسو توبہ میں نے شبنم کو بھی شعلوں پہ مچلتے دیکھا
آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا
میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں
حسیں تیری آنکھیں حسیں تیرے آنسو یہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے
اس قدر رویا ہوں تیری یاد میں آئینے آنکھوں کے دھندلے ہو گئے
کیا کہوں کس طرح سے جیتا ہوں غم کو کھاتا ہوں آنسو پیتا ہوں
جو آگ لگائی تھی تم نے اس کو تو بجھایا اشکوں نے جو اشکوں نے بھڑکائی ہے اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے
مرے اشک بھی ہیں اس میں یہ شراب ابل نہ جائے مرا جام چھونے والے ترا ہاتھ جل نہ جائے
پھر مری آنکھ ہو گئی نمناک پھر کسی نے مزاج پوچھا ہے
گھاس میں جذب ہوئے ہوں گے زمیں کے آنسو پاؤں رکھتا ہوں تو ہلکی سی نمی لگتی ہے
اور کچھ تحفہ نہ تھا جو لاتے ہم تیرے نیاز ایک دو آنسو تھے آنکھوں میں سو بھر لائے ہیں ہم
اشک غم دیدۂ پر نم سے سنبھالے نہ گئے یہ وہ بچے ہیں جو ماں باپ سے پالے نہ گئے
یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے
اداس آنکھوں سے آنسو نہیں نکلتے ہیں یہ موتیوں کی طرح سیپیوں میں پلتے ہیں
میری آنکھوں میں ہیں آنسو تیرے دامن میں بہار گل بنا سکتا ہے تو شبنم بنا سکتا ہوں میں
Explore Similar Collections
Aansoo FAQs
Aansoo collection me kya milega?
Aansoo se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.