Poetry Collection

Aarzoo

Our yearnings, or desires, characterize us as human beings. In fact, we live most of our lives desiring, yearning, or pining for one thing or the other. There are many facets to this experience; some of them are sweet while others are sour. This selection will take you along and help you appreciate some of these conditions of our existence.

Total

59

Sher

50

Ghazal

9

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی بڑی آرزو تھی ملاقات کی

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں دو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد

آرزو ہے کہ تو یہاں آئے اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی

یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا

سب خواہشیں پوری ہوں فرازؔ ایسا نہیں ہے جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے

مری اپنی اور اس کی آرزو میں فرق یہ تھا مجھے بس وہ اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیے ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے

ناامیدی بڑھ گئی ہے اس قدر آرزو کی آرزو ہونے لگی

یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے ہم اور بلبل بے تاب گفتگو کرتے

یہ آتش کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ آرزو کے معنی تمنا، روبرو کے معنی آمنے سامنے، بے تاب کے معنی بے قرار ہے۔ بلبل بے تاب یعنی وہ بلبل جو بے قرار ہو جسے چین نہ ہو۔ اس شعر کا قریب کا مفہوم تو یہ ہے کہ ہمیں یہ تمنا تھی کہ ہم اے محبوب تجھے گل کے سامنے بٹھاتے اور پھر بلبل جو بے چین ہے اس سے بات چیت کرتے۔ لیکن اس میں در اصل شاعر یہ کہتا ہے کہ ہم نے ایک تمنا کی تھی کہ ہم اپنے محبوب کو پھول کے سامنے بٹھاتے اور پھر بلبل جو گل کے عشق میں بے تاب ہے اس سے گفتگو کرتے۔ مطلب یہ کہ ہماری خواہش تھی کہ ہم اپنے گل جیسے چہرے والے محبوب کو گل کے سامنے بٹھاتے اور پھر اس بلبل سے جو گل کے حسن کی وجہ سے اس کا دیوانہ بن گیا ہے اس سے گفتگو کرتے یعنی بحث کرتے اور پوچھتے کہ اے بلبل اب بتا کون خوبصورت ہے، تمہارا گل یا میرا محبوب۔ ظاہر ہے اس بات پر بحث ہوتی اور آخر پر بلبل جو گل کے حسن میں دیوانہ ہوگیا اگر میرے محبوب کے جمال کو دیکھے گا تو گل کی تعریف میں چہچہانا بھول جائے گا۔ شفق سوپوری

ہے حصول آرزو کا راز ترک آرزو میں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے

ہوتی کہاں ہے دل سے جدا دل کی آرزو جاتا کہاں ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر

یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دم وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں

تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو

ہم کیا کریں اگر نہ تری آرزو کریں دنیا میں اور بھی کوئی تیرے سوا ہے کیا

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا کیا بتاؤں کہ میرے دل میں ہے ارماں کیا کیا

دل میں وہ بھیڑ ہے کہ ذرا بھی نہیں جگہ آپ آئیے مگر کوئی ارماں نکال کے

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی بڑی آرزو تھی ملاقات کی

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں دو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد

آرزو ہے کہ تو یہاں آئے اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دم وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں

مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی

یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا

سب خواہشیں پوری ہوں فرازؔ ایسا نہیں ہے جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے

آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا

ہم کیا کریں اگر نہ تری آرزو کریں دنیا میں اور بھی کوئی تیرے سوا ہے کیا

بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیے ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے

غم زمانہ نے مجبور کر دیا ورنہ یہ آرزو تھی کہ بس تیری آرزو کرتے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے ہم اور بلبل بے تاب گفتگو کرتے

یہ آتش کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ آرزو کے معنی تمنا، روبرو کے معنی آمنے سامنے، بے تاب کے معنی بے قرار ہے۔ بلبل بے تاب یعنی وہ بلبل جو بے قرار ہو جسے چین نہ ہو۔ اس شعر کا قریب کا مفہوم تو یہ ہے کہ ہمیں یہ تمنا تھی کہ ہم اے محبوب تجھے گل کے سامنے بٹھاتے اور پھر بلبل جو بے چین ہے اس سے بات چیت کرتے۔ لیکن اس میں در اصل شاعر یہ کہتا ہے کہ ہم نے ایک تمنا کی تھی کہ ہم اپنے محبوب کو پھول کے سامنے بٹھاتے اور پھر بلبل جو گل کے عشق میں بے تاب ہے اس سے گفتگو کرتے۔ مطلب یہ کہ ہماری خواہش تھی کہ ہم اپنے گل جیسے چہرے والے محبوب کو گل کے سامنے بٹھاتے اور پھر اس بلبل سے جو گل کے حسن کی وجہ سے اس کا دیوانہ بن گیا ہے اس سے گفتگو کرتے یعنی بحث کرتے اور پوچھتے کہ اے بلبل اب بتا کون خوبصورت ہے، تمہارا گل یا میرا محبوب۔ ظاہر ہے اس بات پر بحث ہوتی اور آخر پر بلبل جو گل کے حسن میں دیوانہ ہوگیا اگر میرے محبوب کے جمال کو دیکھے گا تو گل کی تعریف میں چہچہانا بھول جائے گا۔ شفق سوپوری

تری آرزو تری جستجو میں بھٹک رہا تھا گلی گلی مری داستاں تری زلف ہے جو بکھر بکھر کے سنور گئی

ہے حصول آرزو کا راز ترک آرزو میں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے

ہوتی کہاں ہے دل سے جدا دل کی آرزو جاتا کہاں ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر

دل میں وہ بھیڑ ہے کہ ذرا بھی نہیں جگہ آپ آئیے مگر کوئی ارماں نکال کے

Explore Similar Collections

Aarzoo FAQs

Aarzoo collection me kya milega?

Aarzoo se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.