Poetry Collection

Aaina

This selection of verses on mirror will surprise you at the very beginning. You would appreciate how a mirror that reflects our faces also projects the colourful images of this world. In reflecting the images of the lovers and the wide world around, the mirror acquires a symbolic identity for itself. Here, you are not before a mirror but you are face-to-face with a kind of poetry that uses mirror as a medium of complex representations.

Total

57

Sher

50

Ghazal

7

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

آئنہ دیکھ کر تسلی ہوئی ہم کو اس گھر میں جانتا ہے کوئی

آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوست ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

مری جگہ کوئی آئینہ رکھ لیا ہوتا نہ جانے تیرے تماشے میں میرا کام ہے کیا

آئنہ یہ تو بتاتا ہے کہ میں کیا ہوں مگر آئنہ اس پہ ہے خاموش کہ کیا ہے مجھ میں

مدتیں گزریں ملاقات ہوئی تھی تم سے پھر کوئی اور نہ آیا نظر آئینے میں

~ Haneef Kaifi

دیکھنا اچھا نہیں زانو پہ رکھ کر آئنہ دونوں نازک ہیں نہ رکھیو آئنے پر آئنہ

ہمیں معشوق کو اپنا بنانا تک نہیں آتا بنانے والے آئینہ بنا لیتے ہیں پتھر سے

مشکل بہت پڑے گی برابر کی چوٹ ہے آئینہ دیکھئے گا ذرا دیکھ بھال کے

دل پر چوٹ پڑی ہے تب تو آہ لبوں تک آئی ہے یوں ہی چھن سے بول اٹھنا تو شیشہ کا دستور نہیں

میری نقلیں اتارنے لگا ہے آئینے کا بتاؤ کیا کیا جائے

بے ساختہ بکھر گئی جلووں کی کائنات آئینہ ٹوٹ کر تری انگڑائی بن گیا

وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آ سکے آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے

بھولے بسرے ہوئے غم پھر ابھر آتے ہیں کئی آئینہ دیکھیں تو چہرے نظر آتے ہیں کئی

اک بار جو ٹوٹے تو کبھی جڑ نہیں سکتا آئینہ نہیں دل مگر آئینہ نما ہے

پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں آئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیں

پہلے تو میری یاد سے آئی حیا انہیں پھر آئنے میں چوم لیا اپنے آپ کو

~ Shakeb Jalali

آئنہ دیکھ کر تسلی ہوئی ہم کو اس گھر میں جانتا ہے کوئی

آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوست ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آئے شاید آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں

~ Shakeb Jalali

میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں

مدتیں گزریں ملاقات ہوئی تھی تم سے پھر کوئی اور نہ آیا نظر آئینے میں

~ Haneef Kaifi

یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں اب آئینے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا

ہمیں معشوق کو اپنا بنانا تک نہیں آتا بنانے والے آئینہ بنا لیتے ہیں پتھر سے

نہ دیکھنا کبھی آئینہ بھول کر دیکھو تمہارے حسن کا پیدا جواب کر دے گا

میری نقلیں اتارنے لگا ہے آئینے کا بتاؤ کیا کیا جائے

وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آ سکے آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے

اک بار جو ٹوٹے تو کبھی جڑ نہیں سکتا آئینہ نہیں دل مگر آئینہ نما ہے

Explore Similar Collections

Aaina FAQs

Aaina collection me kya milega?

Aaina se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.