پوچھ لیتے وہ بس مزاج مرا کتنا آسان تھا علاج مرا
Poetry Collection
Ayaadat
Poetry for visiting the sick has an interesting and humorous aspect. An afflicted lover wants his beloved to visit him and waits until the sickness reaches a boiling point. Yet, the indifferent beloved does not visit the lover. This character can only be synonymous of a lover who waits for his/her beloved while faking illness hundreds of times. Apart from this aspect, there are more amusing articles about poetry written for vising the sick. Here are a few good selections for you to read.
Total
22
Sher
22
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
آج اس نے ہنس کے یوں پوچھا مزاج عمر بھر کے رنج و غم یاد آ گئے
آتے ہیں عیادت کو تو کرتے ہیں نصیحت احباب سے غم خوار ہوا بھی نہیں جاتا
دیکھنے آئے تھے وہ اپنی محبت کا اثر کہنے کو یہ ہے کہ آئے ہیں عیادت کر کے
عیادت کو مری آ کر وہ یہ تاکید کرتے ہیں تجھے ہم مار ڈالیں گے نہیں تو جلد اچھا ہو
آیا نہ ایک بار عیادت کو تو مسیح سو بار میں فریب سے بیمار ہو چکا
بہر عیادت آئے وہ لیکن قضا کے ساتھ دم ہی نکل گیا مرا آواز پا کے ساتھ
عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے
اک بار اور میری عیادت کو آئیے اچھی طرح سے میں ابھی اچھا ہوا نہیں
کون آتا ہے عیادت کے لیے دیکھیں فراغؔ اپنے جی کو ذرا ناساز کیے دیتے ہیں
کبھو بیمار سن کر وہ عیادت کو تو آتا تھا ہمیں اپنے بھلے ہونے سے وہ آزار بہتر تھا
وہ عیادت کو نہ آیا کریں میں در گزرا حال دل پوچھ کے اور آگ لگا جاتے ہیں
آن کے اس بیمار کو دیکھے تجھ کو بھی توفیق ہوئی لب پر اس کے نام تھا تیرا جب بھی درد شدید ہوا
جب نہ تھا ضبط تو کیوں آئے عیادت کے لیے تم نے کاہے کو مرا حال پریشاں دیکھا
اس کو مدت ہوئی صبر کرتے ہوئے آج کوئے وفا سے گزرتے ہوئے پوچھ کر اس گدا کا ٹھکانا سجن اپنے انشاؔ کو بھی دیکھ آنا سجن
پوچھ لیتے وہ بس مزاج مرا کتنا آسان تھا علاج مرا
آج اس نے ہنس کے یوں پوچھا مزاج عمر بھر کے رنج و غم یاد آ گئے
آتے ہیں عیادت کو تو کرتے ہیں نصیحت احباب سے غم خوار ہوا بھی نہیں جاتا
دیکھنے آئے تھے وہ اپنی محبت کا اثر کہنے کو یہ ہے کہ آئے ہیں عیادت کر کے
عیادت کو مری آ کر وہ یہ تاکید کرتے ہیں تجھے ہم مار ڈالیں گے نہیں تو جلد اچھا ہو
آیا نہ ایک بار عیادت کو تو مسیح سو بار میں فریب سے بیمار ہو چکا
بہر عیادت آئے وہ لیکن قضا کے ساتھ دم ہی نکل گیا مرا آواز پا کے ساتھ
عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے
وہ عیادت کو تو آیا تھا مگر جاتے ہوئے اپنی تصویریں بھی کمرے سے اٹھا کر لے گیا
اک بار اور میری عیادت کو آئیے اچھی طرح سے میں ابھی اچھا ہوا نہیں
وہ عیادت کے لئے آئے ہیں لو اور سہی آج ہی خوبیٔ تقدیر سے حال اچھا ہے
جب نہ تھا ضبط تو کیوں آئے عیادت کے لیے تم نے کاہے کو مرا حال پریشاں دیکھا
وہ عیادت کو نہ آیا کریں میں در گزرا حال دل پوچھ کے اور آگ لگا جاتے ہیں
لے میری خبر چشم مرے یار کی کیوں کر بیمار عیادت کرے بیمار کی کیوں کر
اس کو مدت ہوئی صبر کرتے ہوئے آج کوئے وفا سے گزرتے ہوئے پوچھ کر اس گدا کا ٹھکانا سجن اپنے انشاؔ کو بھی دیکھ آنا سجن
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Ayaadat FAQs
Ayaadat collection me kya milega?
Ayaadat se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.