Poetry Collection

Bachpan

Life is divided into three parts—childhood, adulthood, and old age. Childhood, however, has many facets. It is a physical state of being as well as a philosophical state of existence. Some of these verses on the idea and experience of childhood, as presented here, would be of interest to you.

Total

31

Sher

27

Ghazal

4

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے

اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے

کتابوں سے نکل کر تتلیاں غزلیں سناتی ہیں ٹفن رکھتی ہے میری ماں تو بستہ مسکراتا ہے

میرا بچپن بھی ساتھ لے آیا گاؤں سے جب بھی آ گیا کوئی

دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم

جمالؔ ہر شہر سے ہے پیارا وہ شہر مجھ کو جہاں سے دیکھا تھا پہلی بار آسمان میں نے

اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے

چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں کچھ بولتے نہیں بچے بگڑ گئے ہیں بہت دیکھ بھال سے

بچپن میں ہم ہی تھے یا تھا اور کوئی وحشت سی ہونے لگتی ہے یادوں سے

فقط مال و زر دیوار و در اچھا نہیں لگتا جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا

کون کہے معصوم ہمارا بچپن تھا کھیل میں بھی تو آدھا آدھا آنگن تھا

ایک ہاتھی ایک راجہ ایک رانی کے بغیر نیند بچوں کو نہیں آتی کہانی کے بغیر

کھلونوں کی دکانو راستا دو مرے بچے گزرنا چاہتے ہیں

ساتوں عالم سر کرنے کے بعد اک دن کی چھٹی لے کر گھر میں چڑیوں کے گانے پر بچوں کی حیرانی دیکھو

محلے والے میرے کار بے مصرف پہ ہنستے ہیں میں بچوں کے لیے گلیوں میں غبارے بناتا ہوں

میں بچپن میں کھلونے توڑتا تھا مرے انجام کی وہ ابتدا تھی

اک کھلونا جوگی سے کھو گیا تھا بچپن میں ڈھونڈھتا پھرا اس کو وہ نگر نگر تنہا

بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے

اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے

کتابوں سے نکل کر تتلیاں غزلیں سناتی ہیں ٹفن رکھتی ہے میری ماں تو بستہ مسکراتا ہے

میرا بچپن بھی ساتھ لے آیا گاؤں سے جب بھی آ گیا کوئی

دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم

جمالؔ ہر شہر سے ہے پیارا وہ شہر مجھ کو جہاں سے دیکھا تھا پہلی بار آسمان میں نے

اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے

چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں کچھ بولتے نہیں بچے بگڑ گئے ہیں بہت دیکھ بھال سے

میں بچپن میں کھلونے توڑتا تھا مرے انجام کی وہ ابتدا تھی

اب تک ہماری عمر کا بچپن نہیں گیا گھر سے چلے تھے جیب کے پیسے گرا دیے

فقط مال و زر دیوار و در اچھا نہیں لگتا جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا

کون کہے معصوم ہمارا بچپن تھا کھیل میں بھی تو آدھا آدھا آنگن تھا

یہ زندگی کچھ بھی ہو مگر اپنے لئے تو کچھ بھی نہیں بچوں کی شرارت کے علاوہ

ایک ہاتھی ایک راجہ ایک رانی کے بغیر نیند بچوں کو نہیں آتی کہانی کے بغیر

کھلونوں کی دکانو راستا دو مرے بچے گزرنا چاہتے ہیں

ساتوں عالم سر کرنے کے بعد اک دن کی چھٹی لے کر گھر میں چڑیوں کے گانے پر بچوں کی حیرانی دیکھو

محلے والے میرے کار بے مصرف پہ ہنستے ہیں میں بچوں کے لیے گلیوں میں غبارے بناتا ہوں

You have reached the end.

Explore Similar Collections

Bachpan FAQs

Bachpan collection me kya milega?

Bachpan se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.