Poetry Collection

Bahana

Bahana par curated selection jahan sher, ghazal aur nazm ko readable format me discover kiya ja sakta hai.

Total

30

Sher

29

Ghazal

1

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے

جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی

مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ

وہ پوچھتا تھا مری آنکھ بھیگنے کا سبب مجھے بہانہ بنانا بھی تو نہیں آیا

ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے

بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کا ہمیں یہ شوق ہے کیا آستیں بھگونے کا

تلاش ایک بہانہ تھا خاک اڑانے کا پتہ چلا کہ ہمیں جستجوئے یار نہ تھی

شاعری جھوٹ سہی عشق فسانہ ہی سہی زندہ رہنے کے لیے کوئی بہانہ ہی سہی

سچ تو یہ ہے پھول کا دل بھی چھلنی ہے ہنستا چہرہ ایک بہانا لگتا ہے

بہانہ مل نہ جائے بجلیوں کو ٹوٹ پڑنے کا کلیجہ کانپتا ہے آشیاں کو آشیاں کہتے

کبھی کبھی عرض غم کی خاطر ہم اک بہانا بھی چاہتے ہیں جب آنسوؤں سے بھری ہوں آنکھیں تو مسکرانا بھی چاہتے ہیں

خموشی میری لے میں گنگنانا چاہتی ہے کسی سے بات کرنے کا بہانا چاہتی ہے

جنوں کا کوئی فسانہ تو ہاتھ آنے دو میں رو پڑوں گا بہانہ تو ہاتھ آنے دو

وہ بے خودی تھی محبت کی بے رخی تو نہ تھی پہ اس کو ترک تعلق کو اک بہانہ ہوا

اک آدھ بار تو جاں وارنی ہی پڑتی ہے محبتیں ہوں تو بنتا نہیں بہانہ کوئی

کوئی صدا کوئی آوازۂ جرس ہی سہی کوئی بہانہ کہ ہم جاں نثار کرتے رہیں

اک بہانہ چاہیے ان کو بگڑنے کے لیے میں نے زلفوں کی بلائیں لیں مرے سر ہو گئے

وہ آنا چاہتا ہے میرے دل میں مگر کوئی بہانہ چاہتا ہے

~ M. Nasrullah Nasr

دن چڑھ آیا کیوں نہیں آئے جائیں ان سے پوچھ آئیں لیکن ان کے پاس تو اے دل کوئی بہانہ ہوگا ہی

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے

جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی

مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ

وہ پوچھتا تھا مری آنکھ بھیگنے کا سبب مجھے بہانہ بنانا بھی تو نہیں آیا

ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے

بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کا ہمیں یہ شوق ہے کیا آستیں بھگونے کا

تلاش ایک بہانہ تھا خاک اڑانے کا پتہ چلا کہ ہمیں جستجوئے یار نہ تھی

شاعری جھوٹ سہی عشق فسانہ ہی سہی زندہ رہنے کے لیے کوئی بہانہ ہی سہی

سچ تو یہ ہے پھول کا دل بھی چھلنی ہے ہنستا چہرہ ایک بہانا لگتا ہے

بہانہ مل نہ جائے بجلیوں کو ٹوٹ پڑنے کا کلیجہ کانپتا ہے آشیاں کو آشیاں کہتے

کبھی کبھی عرض غم کی خاطر ہم اک بہانا بھی چاہتے ہیں جب آنسوؤں سے بھری ہوں آنکھیں تو مسکرانا بھی چاہتے ہیں

خموشی میری لے میں گنگنانا چاہتی ہے کسی سے بات کرنے کا بہانا چاہتی ہے

جنوں کا کوئی فسانہ تو ہاتھ آنے دو میں رو پڑوں گا بہانہ تو ہاتھ آنے دو

وہ بے خودی تھی محبت کی بے رخی تو نہ تھی پہ اس کو ترک تعلق کو اک بہانہ ہوا

اک آدھ بار تو جاں وارنی ہی پڑتی ہے محبتیں ہوں تو بنتا نہیں بہانہ کوئی

کوئی صدا کوئی آوازۂ جرس ہی سہی کوئی بہانہ کہ ہم جاں نثار کرتے رہیں

اک بہانہ چاہیے ان کو بگڑنے کے لیے میں نے زلفوں کی بلائیں لیں مرے سر ہو گئے

وہ آنا چاہتا ہے میرے دل میں مگر کوئی بہانہ چاہتا ہے

~ M. Nasrullah Nasr

دن چڑھ آیا کیوں نہیں آئے جائیں ان سے پوچھ آئیں لیکن ان کے پاس تو اے دل کوئی بہانہ ہوگا ہی

You have reached the end.

Explore Similar Collections

Bahana FAQs

Bahana collection me kya milega?

Bahana se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.