Poetry Collection

Bahaar

Spring is a season that we all love for the beauty and aroma it spread all around. It is a face of nature that poets have drawn upon frequently not only to portray a season but also a state of our lives. It has also been used as a metaphor in love poetry. We have made a selection of verses on this theme for you to read and enjoy.

Total

60

Sher

50

Ghazal

10

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا

بہار آئے تو میرا سلام کہہ دینا مجھے تو آج طلب کر لیا ہے صحرا نے

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں جسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیں

افسردگی بھی حسن ہے تابندگی بھی حسن ہم کو خزاں نے تم کو سنوارا بہار نے

ٹک دیکھ لیں چمن کو چلو لالہ زار تک کیا جانے پھر جئیں نہ جئیں ہم بہار تک

نہ سیر باغ نہ ملنا نہ میٹھی باتیں ہیں یہ دن بہار کے اے جان مفت جاتے ہیں

اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے آج تک سلگتے ہیں زخم رہ گزاروں کے

خوشی کے پھول کھلے تھے تمہارے ساتھ کبھی پھر اس کے بعد نہ آیا بہار کا موسم

~ Salam Sandelvi

تیرے قربان قمرؔ منہ سر گلزار نہ کھول صدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہار

یہ سوچتے ہی رہے اور بہار ختم ہوئی کہاں چمن میں نشیمن بنے کہاں نہ بنے

عجب بہار دکھائی لہو کے چھینٹوں نے خزاں کا رنگ بھی رنگ بہار جیسا تھا

خزاں کا بھیس بنا کر بہار نے مارا مجھے دورنگئ لیل و نہار نے مارا

تڑپ کے رہ گئی بلبل قفس میں اے صیاد یہ کیا کہا کہ ابھی تک بہار باقی ہے

شاخوں سے برگ گل نہیں جھڑتے ہیں باغ میں زیور اتر رہا ہے عروس بہار کا

شگفتگئ دل کارواں کو کیا سمجھے وہ اک نگاہ جو الجھی ہوئی بہار میں ہے

ادھر بھی خاک اڑی ہے ادھر بھی خاک اڑی جہاں جہاں سے بہاروں کے کارواں نکلے

میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا

بہار آئے تو میرا سلام کہہ دینا مجھے تو آج طلب کر لیا ہے صحرا نے

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں جسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیں

افسردگی بھی حسن ہے تابندگی بھی حسن ہم کو خزاں نے تم کو سنوارا بہار نے

شگفتگئ دل کارواں کو کیا سمجھے وہ اک نگاہ جو الجھی ہوئی بہار میں ہے

نہ سیر باغ نہ ملنا نہ میٹھی باتیں ہیں یہ دن بہار کے اے جان مفت جاتے ہیں

اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے آج تک سلگتے ہیں زخم رہ گزاروں کے

تیرے قربان قمرؔ منہ سر گلزار نہ کھول صدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہار

خزاں کا بھیس بنا کر بہار نے مارا مجھے دورنگئ لیل و نہار نے مارا

تنکوں سے کھیلتے ہی رہے آشیاں میں ہم آیا بھی اور گیا بھی زمانہ بہار کا

مری بہار میں عالم خزاں کا رہتا ہے ہوا جو وصل تو کھٹکا رہا جدائی کا

ادھر بھی خاک اڑی ہے ادھر بھی خاک اڑی جہاں جہاں سے بہاروں کے کارواں نکلے

Explore Similar Collections

Bahaar FAQs

Bahaar collection me kya milega?

Bahaar se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.