عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
Poetry Collection
Bedaar
Bedaar par curated selection jahan sher, ghazal aur nazm ko readable format me discover kiya ja sakta hai.
Total
21
Sher
21
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا
ہم کس کو دکھاتے شب فرقت کی اداسی سب خواب میں تھے رات کو بیدار ہمیں تھے
وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے کلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہو جائے
جو سوتے ہیں نہیں کچھ ذکر ان کا وہ تو سوتے ہیں مگر جو جاگتے ہیں ان میں بھی بیدار کتنے ہیں
یہ روز و شب یہ صبح و شام یہ بستی یہ ویرانہ سبھی بیدار ہیں انساں اگر بیدار ہو جائے
وصل کی رات خوشی نے مجھے سونے نہ دیا میں بھی بے دار رہا طالع بے دار کے ساتھ
اب جس دل خوابیدہ کی کھلتی نہیں آنکھیں راتوں کو سرہانے مرے بے دار یہی تھا
تری زلف کی شب کا بیدار میں ہوں تجھ آنکھوں کے ساغر کا مے خوار میں ہوں
شکست دل کی ہر آواز حشر آثار ہوتی ہے مگر سوئی ہوئی دنیا کہاں بیدار ہوتی ہے
نہ جانے کیسی نگاہوں سے موت نے دیکھا ہوئی ہے نیند سے بیدار زندگی کہ میں ہوں
محو لقا جو ہیں ملکوتی خصال ہیں بیدار ہو کے بھی نظر آتے ہیں خواب میں
پھر چھیڑا حسنؔ نے اپنا قصہ بس آج کی شب بھی سو چکے ہم
چبھا ہے پاؤں میں کانٹا خرد کا جنوں بیدار ہوتا جا رہا ہے
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا
ہم کس کو دکھاتے شب فرقت کی اداسی سب خواب میں تھے رات کو بیدار ہمیں تھے
وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے کلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہو جائے
جو سوتے ہیں نہیں کچھ ذکر ان کا وہ تو سوتے ہیں مگر جو جاگتے ہیں ان میں بھی بیدار کتنے ہیں
یہ روز و شب یہ صبح و شام یہ بستی یہ ویرانہ سبھی بیدار ہیں انساں اگر بیدار ہو جائے
وصل کی رات خوشی نے مجھے سونے نہ دیا میں بھی بے دار رہا طالع بے دار کے ساتھ
اب جس دل خوابیدہ کی کھلتی نہیں آنکھیں راتوں کو سرہانے مرے بے دار یہی تھا
تری زلف کی شب کا بیدار میں ہوں تجھ آنکھوں کے ساغر کا مے خوار میں ہوں
شکست دل کی ہر آواز حشر آثار ہوتی ہے مگر سوئی ہوئی دنیا کہاں بیدار ہوتی ہے
نہ جانے کیسی نگاہوں سے موت نے دیکھا ہوئی ہے نیند سے بیدار زندگی کہ میں ہوں
محو لقا جو ہیں ملکوتی خصال ہیں بیدار ہو کے بھی نظر آتے ہیں خواب میں
پھر چھیڑا حسنؔ نے اپنا قصہ بس آج کی شب بھی سو چکے ہم
چبھا ہے پاؤں میں کانٹا خرد کا جنوں بیدار ہوتا جا رہا ہے
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Bedaar FAQs
Bedaar collection me kya milega?
Bedaar se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.