Poetry Collection

Bekasi

In spite of all his power and prowess, man is but only too frail. As such, man often reflects upon his helplessness. This helplessness has had many manifestations in our day-to-day personal and communal lives. Some reflections on the states of helplessness are shared here with you. .

Total

33

Sher

18

Ghazal

15

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھ ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے

یہ شعر اردو کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ اس میں جو کیفیت پائی جاتی ہے اسے شدید تنہائی کے عالم پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے تلازمات میں شدت بھی ہے اور احساس بھی۔ ’’سرد رات‘‘، ’’آوارگی‘‘اور ’’نیند کا بوجھ‘‘ یہ ایسے تین عالم ہیں جن سے تنہائی کی تصویر بنتی ہے اور جب یہ کہا کہ ’’ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے‘‘ تو گویا تنہائی کے ساتھ ساتھ بےخانمائی کے المیہ کی تصویر بھی کھینچی ہے۔ شعر کا بنیادی مضمون تنہائی اور بےخانمائی اور اجنبیت ہے۔ شاعر کسی اور شہر میں ہیں اور سرد رات میں آنکھوں پر نیند کا بوجھ لے کے آوارہ گھوم رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ شہر میں اجنبی ہیں اس لئے کسی کے گھر نہیں جا سکتے ورنہ سرد رات، آوارگی اور نیند کا بوجھ وہ مجبوریاں ہیں جو کسی ٹھکانے کا تقاضا کرتی ہیں۔ مگر شاعر کا المیہ یہ ہے کہ وہ تنہائی کے شہر میں کسی کو جانتے نہیں اسی لئے کہتے ہیں اگر میں اپنے شہر میں ہوتا تو اپنے گھر گیا ہوتا۔ شفق سوپوری

میں بولتا ہوں تو الزام ہے بغاوت کا میں چپ رہوں تو بڑی بے بسی سی ہوتی ہے

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

مجھ کو مری شکست کی دوہری سزا ملی تجھ سے بچھڑ کے زندگی دنیا سے جا ملی

ادھر سے آج وہ گزرے تو منہ پھیرے ہوئے گزرے اب ان سے بھی ہماری بے کسی دیکھی نہیں جاتی

عاشق کی بے کسی کا تو عالم نہ پوچھیے مجنوں پہ کیا گزر گئی صحرا گواہ ہے

آنکھیں بھی ہائے نزع میں اپنی بدل گئیں سچ ہے کہ بے کسی میں کوئی آشنا نہیں

بے کسی کے درد نے لو دی جل اٹھا اک چراغ رفتہ رفتہ اس سے پھر سارا جہاں روشن ہوا

یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھ ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے

یہ شعر اردو کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ اس میں جو کیفیت پائی جاتی ہے اسے شدید تنہائی کے عالم پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے تلازمات میں شدت بھی ہے اور احساس بھی۔ ’’سرد رات‘‘، ’’آوارگی‘‘اور ’’نیند کا بوجھ‘‘ یہ ایسے تین عالم ہیں جن سے تنہائی کی تصویر بنتی ہے اور جب یہ کہا کہ ’’ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے‘‘ تو گویا تنہائی کے ساتھ ساتھ بےخانمائی کے المیہ کی تصویر بھی کھینچی ہے۔ شعر کا بنیادی مضمون تنہائی اور بےخانمائی اور اجنبیت ہے۔ شاعر کسی اور شہر میں ہیں اور سرد رات میں آنکھوں پر نیند کا بوجھ لے کے آوارہ گھوم رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ شہر میں اجنبی ہیں اس لئے کسی کے گھر نہیں جا سکتے ورنہ سرد رات، آوارگی اور نیند کا بوجھ وہ مجبوریاں ہیں جو کسی ٹھکانے کا تقاضا کرتی ہیں۔ مگر شاعر کا المیہ یہ ہے کہ وہ تنہائی کے شہر میں کسی کو جانتے نہیں اسی لئے کہتے ہیں اگر میں اپنے شہر میں ہوتا تو اپنے گھر گیا ہوتا۔ شفق سوپوری

میں بولتا ہوں تو الزام ہے بغاوت کا میں چپ رہوں تو بڑی بے بسی سی ہوتی ہے

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

مجھ کو مری شکست کی دوہری سزا ملی تجھ سے بچھڑ کے زندگی دنیا سے جا ملی

ادھر سے آج وہ گزرے تو منہ پھیرے ہوئے گزرے اب ان سے بھی ہماری بے کسی دیکھی نہیں جاتی

عاشق کی بے کسی کا تو عالم نہ پوچھیے مجنوں پہ کیا گزر گئی صحرا گواہ ہے

آنکھیں بھی ہائے نزع میں اپنی بدل گئیں سچ ہے کہ بے کسی میں کوئی آشنا نہیں

بے کسی کے درد نے لو دی جل اٹھا اک چراغ رفتہ رفتہ اس سے پھر سارا جہاں روشن ہوا

You have reached the end.

Explore Similar Collections

Bekasi FAQs

Bekasi collection me kya milega?

Bekasi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.