Poetry Collection

Bekhudi

Ecstasy, or trance, is a state of belonging beyond the limits of consciousness or self-obsession. This s a condition we generally associate with romantic and divine lovers. It also opens up ways to understand the philosophical meaning of human existence. Poets have developed fascinating perspectives on the experience of ecstasy. Here are some examples.

Total

58

Sher

50

Ghazal

8

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں

ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے

یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں

چلے تو پاؤں کے نیچے کچل گئی کوئی شے نشے کی جھونک میں دیکھا نہیں کہ دنیا ہے

اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے

اب ان حدود میں لایا ہے انتظار مجھے وہ آ بھی جائیں تو آئے نہ اعتبار مجھے

کمال عشق تو دیکھو وہ آ گئے لیکن وہی ہے شوق وہی انتظار باقی ہے

ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہی ترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہے

دن رات مے کدے میں گزرتی تھی زندگی اخترؔ وہ بے خودی کے زمانے کدھر گئے

ابتدا سے آج تک ناطقؔ کی یہ ہے سرگزشت پہلے چپ تھا پھر ہوا دیوانہ اب بے ہوش ہے

یہاں کوئی نہ جی سکا نہ جی سکے گا ہوش میں مٹا دے نام ہوش کا شراب لا شراب لا

مئے حیات میں شامل ہے تلخیٔ دوراں جبھی تو پی کے ترستے ہیں بے خودی کے لئے

میرے دل و دماغ پہ چھائے ہوئے ہو تم ذرے کو آفتاب بنائے ہوئے ہو تم

شہ بے خودی نے عطا کیا مجھے اب لباس برہنگی نہ خرد کی بخیہ گری رہی نہ جنوں کی پردہ دری رہی

اب میں حدود ہوش و خرد سے گزر گیا ٹھکراؤ چاہے پیار کرو میں نشے میں ہوں

خواب میں نام ترا لے کے پکار اٹھتا ہوں بے خودی میں بھی مجھے یاد تری یاد کی ہے

مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیئے

اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں

ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے

یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں

چلے تو پاؤں کے نیچے کچل گئی کوئی شے نشے کی جھونک میں دیکھا نہیں کہ دنیا ہے

اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے

اب ان حدود میں لایا ہے انتظار مجھے وہ آ بھی جائیں تو آئے نہ اعتبار مجھے

اللہ رے بے خودی کہ ترے پاس بیٹھ کر تیرا ہی انتظار کیا ہے کبھی کبھی

ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہی ترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہے

عالم سے بے خبر بھی ہوں عالم میں بھی ہوں میں ساقی نے اس مقام کو آساں بنا دیا

ابتدا سے آج تک ناطقؔ کی یہ ہے سرگزشت پہلے چپ تھا پھر ہوا دیوانہ اب بے ہوش ہے

نہ تو ہوش سے تعارف نہ جنوں سے آشنائی یہ کہاں پہنچ گئے ہیں تری بزم سے نکل کے

محبت نیک و بد کو سوچنے دے غیر ممکن ہے بڑھی جب بے خودی پھر کون ڈرتا ہے گناہوں سے

مئے حیات میں شامل ہے تلخیٔ دوراں جبھی تو پی کے ترستے ہیں بے خودی کے لئے

بے خودی میں ہم تو تیرا در سمجھ کر جھک گئے اب خدا معلوم کعبہ تھا کہ وہ بت خانہ تھا

اب میں حدود ہوش و خرد سے گزر گیا ٹھکراؤ چاہے پیار کرو میں نشے میں ہوں

بے خودی نے کر دیا جذبات دل سے بے نیاز اب ترا ملنا نہ ملنا سب برابر ہو گیا

Explore Similar Collections

Bekhudi FAQs

Bekhudi collection me kya milega?

Bekhudi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.