اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا
Top 20 Sher Series
Chaand Shayari
Chaand Shayari ek clean reading flow me, writer aur full-detail links ke saath.
Total
15
Sher
15
Featured Picks
Series se pehle kuch standout sher padhein.
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا
عید کا چاند تم نے دیکھ لیا چاند کی عید ہو گئی ہوگی
ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے میں جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لیے
وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں
پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت
مجھ کو معلوم ہے محبوب پرستی کا عذاب دیر سے چاند نکلنا بھی غلط لگتا ہے
بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھر پلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پر
لطف شب مہ اے دل اس دم مجھے حاصل ہو اک چاند بغل میں ہو اک چاند مقابل ہو
وہ کون تھا جو دن کے اجالے میں کھو گیا یہ چاند کس کو ڈھونڈنے نکلا ہے شام سے
چاند میں تو نظر آیا تھا مجھے میں نے مہتاب نہیں دیکھا تھا
کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے
فلک پہ چاند ستارے نکلتے ہیں ہر شب ستم یہی ہے نکلتا نہیں ہمارا چاند
ہم نے اس چہرے کو باندھا نہیں مہتاب مثال ہم نے مہتاب کو اس رخ کے مماثل باندھا
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا
عید کا چاند تم نے دیکھ لیا چاند کی عید ہو گئی ہوگی
کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمہاری زلف سیاہ تھی
وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں
رات کے شاید ایک بجے ہیں سوتا ہوگا میرا چاند
گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میر اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو
اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا
اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا
اتنے گھنے بادل کے پیچھے کتنا تنہا ہوگا چاند
عید کا چاند تم نے دیکھ لیا چاند کی عید ہو گئی ہوگی
ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے میں جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لیے
کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمہاری زلف سیاہ تھی
کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمہاری زلف سیاہ تھی
پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت
چاند سے تجھ کو جو دے نسبت سو بے انصاف ہے چاند کے منہ پر ہیں چھائیں تیرا مکھڑا صاف ہے
مجھ کو معلوم ہے محبوب پرستی کا عذاب دیر سے چاند نکلنا بھی غلط لگتا ہے
بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھر پلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پر
چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے
لطف شب مہ اے دل اس دم مجھے حاصل ہو اک چاند بغل میں ہو اک چاند مقابل ہو
یہ کس زہرہ جبیں کی انجمن میں آمد آمد ہے بچھایا ہے قمر نے چاندنی کا فرش محفل میں
رات کے شاید ایک بجے ہیں سوتا ہوگا میرا چاند
کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے
رسوا کرے گی دیکھ کے دنیا مجھے قمرؔ اس چاندنی میں ان کو بلانے کو جائے کون
دیکھا ہلال عید تو تم یاد آ گئے اس محویت میں عید ہماری گزر گئی
فلک پہ چاند ستارے نکلتے ہیں ہر شب ستم یہی ہے نکلتا نہیں ہمارا چاند
Explore Similar Collections
Chaand Shayari FAQs
Moon is a stock image Top 20 me kya milega?
Moon is a stock image ke selected sher readable cards, internal detail links, aur writer discovery ke saath milenge.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.