Poetry Collection

Chai

Tea is more than just a drink — it's a feeling, a moment, a companion. In this section, we've curated couplets that capture the warmth, nostalgia, and quiet joy that often brews with a cup of tea. Whether it's solitude in the rain, laughter in a gathering, or memories steeped in silence, these selected couplets celebrate the poetic soul of every sip. A perfect blend for tea lovers and poetry enthusiasts alike.

Total

49

Sher

49

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

اک ہاتھ میں میرے چائے کا کپ اک ہاتھ میں میرے ہاتھ ترا ہاتھوں کو طلب ہے ہاتھوں کی اور دل کو طلب ہے ساتھ ترا

آج پھر چائے بناتے ہوئے وہ یاد آیا آج پھر چائے میں پتی نہیں ڈالی میں نے

شام کی چائے ان کے ساتھ پیوں دل کی حسرت بہت پرانی ہے

گرم موسم میں گرم چائے بھی بد مزاجوں کا پیار لگتی ہے

چائے میں ڈال کر عشاق اسے پی جاتے در حقیقت لب معشوق جو شکر ہوتا

تیرے ہاتھ کی چائے تو پی تھی دل کا رنج تو دل میں رہا تھا

میں نے پوچھا ہے کہ چائے کے لیے وقت کوئی ہنس کے بولی ہے اشارے سے گھڑی ٹھیک نہیں

پھر کہیں بیٹھ کے پی جائے اکٹھے چائے پھر کوئی شام کا پل ساتھ گزارا جائے

شاعری چائے تری یاد چمکتے جگنو بس یہی چار طلب روز مری شام کے ہیں

کبھی تو بیٹھ کے یاروں کے ساتھ چائے پی کبھی تو بیٹھ کے فرصت سے دن گزارا کر

ٹھنڈی چائے کی پیالی پی کے رات کی پیاس بجھائی ہے

نہیں ہے گھر میں تری یاد کے علاوہ کچھ تو کس کے سامنے چائے بنا کے رکھتی ہوں

شام کی چائے کا وعدہ وہ ادھر بھول گئے ہم ادھر صبح سے تیار ہوئے بیٹھے ہیں

چائے کے ایک کپ کا یہی ہے معاوضہ یاروں کو عہد رفتہ کے قصے سنائیے

تیری ٹینشن میں پینا بھول گئی چائے تو سامنے رکھی ہوئی تھی

چائے کی پیالی میں نیلی ٹیبلٹ گھولی سہمے سہمے ہاتھوں نے اک کتاب پھر کھولی

سستے میں ان کو بھولنا اچھا لگا ہے آج چائے کا ایک گھونٹ بھی کافی رہا ہے آج

اک ہاتھ میں میرے چائے کا کپ اک ہاتھ میں میرے ہاتھ ترا ہاتھوں کو طلب ہے ہاتھوں کی اور دل کو طلب ہے ساتھ ترا

آج پھر چائے بناتے ہوئے وہ یاد آیا آج پھر چائے میں پتی نہیں ڈالی میں نے

شام کی چائے ان کے ساتھ پیوں دل کی حسرت بہت پرانی ہے

گرم موسم میں گرم چائے بھی بد مزاجوں کا پیار لگتی ہے

چائے میں ڈال کر عشاق اسے پی جاتے در حقیقت لب معشوق جو شکر ہوتا

تیرے ہاتھ کی چائے تو پی تھی دل کا رنج تو دل میں رہا تھا

آ ترے سنگ ذرا پینگ بڑھائی جائے زندگی بیٹھ تجھے چائے پلائی جائے

چائے کی پیالی میں نیلی ٹیبلٹ گھولی سہمے سہمے ہاتھوں نے اک کتاب پھر کھولی

پھر کہیں بیٹھ کے پی جائے اکٹھے چائے پھر کوئی شام کا پل ساتھ گزارا جائے

شعر جیسا بھی ہو اس شہر میں پڑھ سکتے ہو چائے جیسی بھی ہو آسام میں بک جاتی ہے

سستے میں ان کو بھولنا اچھا لگا ہے آج چائے کا ایک گھونٹ بھی کافی رہا ہے آج

شاعری چائے تری یاد چمکتے جگنو بس یہی چار طلب روز مری شام کے ہیں

کبھی تو بیٹھ کے یاروں کے ساتھ چائے پی کبھی تو بیٹھ کے فرصت سے دن گزارا کر

ٹھنڈی چائے کی پیالی پی کے رات کی پیاس بجھائی ہے

نہیں ہے گھر میں تری یاد کے علاوہ کچھ تو کس کے سامنے چائے بنا کے رکھتی ہوں

شام کی چائے کا وعدہ وہ ادھر بھول گئے ہم ادھر صبح سے تیار ہوئے بیٹھے ہیں

پھر چائے میں بسکٹ کی طرح بھوکی سی یہ شام کھا جائے گی سورج کو سمندر میں ڈبا کر

چائے کے ایک کپ کا یہی ہے معاوضہ یاروں کو عہد رفتہ کے قصے سنائیے

Explore Similar Collections

Chai FAQs

Chai collection me kya milega?

Chai se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.