کیا ستم ہے کہ اب تری صورت غور کرنے پہ یاد آتی ہے
Poetry Collection
Chehra
A face is an index of human personality but a beloved’s face is something that the lovers and the poets have valued the most and the best. They see their universe in that and love it like nothing else in the world. Here, we have collected some examples for you to see that face and appreciate its beauty.
Total
50
Sher
46
Ghazal
4
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں
وہ چہرہ کتابی رہا سامنے بڑی خوب صورت پڑھائی ہوئی
وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا
اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے جس نے ڈالی بری نظر ڈالی
کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آئے شاید آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں
اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب
میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں
ان کی صورت دیکھ لی خوش ہو گئے ان کی سیرت سے ہمیں کیا کام ہے
بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالے کوئی دیکھے اس وقت چہرا تمہارا
تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا
خوابوں کے افق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہ اور میں اسی چہرے سے نئے خواب سجاؤں
اس ایک چہرے میں آباد تھے کئی چہرے اس ایک شخص میں کس کس کو دیکھتا تھا میں
عشق ہے تو عشق کا اظہار ہونا چاہئے آپ کو چہرے سے بھی بیمار ہونا چاہئے
اس ایک چہرہ کے پیچھے ہزار چہرہ ہیں ہزار چہروں کا وہ قافلہ سا لگتا ہے
کتاب کھول کے دیکھوں تو آنکھ روتی ہے ورق ورق ترا چہرا دکھائی دیتا ہے
عجب تیری ہے اے محبوب صورت نظر سے گر گئے سب خوب صورت
شبنم کے آنسو پھول پر یہ تو وہی قصہ ہوا آنکھیں مری بھیگی ہوئی چہرہ ترا اترا ہوا
بھول گئی وہ شکل بھی آخر کب تک یاد کوئی رہتا ہے
رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہوا پڑھتا تھا میں کتاب یہی ہر کلاس میں
کیا ستم ہے کہ اب تری صورت غور کرنے پہ یاد آتی ہے
تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں
وہ چہرہ کتابی رہا سامنے بڑی خوب صورت پڑھائی ہوئی
وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا
تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے تیرے آگے چاند پرانا لگتا ہے
اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے جس نے ڈالی بری نظر ڈالی
کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آئے شاید آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں
چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دو جس رخ سے بھی پڑھو گے مجھے جان جاؤ گے
اک رات چاندنی مرے بستر پہ آئی تھی میں نے تراش کر ترا چہرہ بنا دیا
میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں
رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہوا پڑھتا تھا میں کتاب یہی ہر کلاس میں
کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر
بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالے کوئی دیکھے اس وقت چہرا تمہارا
ابر میں چاند گر نہ دیکھا ہو رخ پہ زلفوں کو ڈال کر دیکھو
خوابوں کے افق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہ اور میں اسی چہرے سے نئے خواب سجاؤں
چاندنی راتوں میں چلاتا پھرا چاند سی جس نے وہ صورت دیکھ لی
عشق ہے تو عشق کا اظہار ہونا چاہئے آپ کو چہرے سے بھی بیمار ہونا چاہئے
بھلا دیں ہم نے کتابیں کہ اس پری رو کے کتابی چہرے کے آگے کتاب ہے کیا چیز
اس ایک چہرہ کے پیچھے ہزار چہرہ ہیں ہزار چہروں کا وہ قافلہ سا لگتا ہے
کتاب کھول کے دیکھوں تو آنکھ روتی ہے ورق ورق ترا چہرا دکھائی دیتا ہے
Explore Similar Collections
Chehra FAQs
Chehra collection me kya milega?
Chehra se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.