انجام وفا یہ ہے جس نے بھی محبت کی مرنے کی دعا مانگی جینے کی سزا پائی
Top 20 Sher Series
Shayari of Nushoor Wahidi
Shayari of Nushoor Wahidi ek clean reading flow me, writer aur full-detail links ke saath.
Total
20
Sher
20
Featured Picks
Series se pehle kuch standout sher padhein.
ہزار شمع فروزاں ہو روشنی کے لیے نظر نہیں تو اندھیرا ہے آدمی کے لیے
میں ابھی سے کس طرح ان کو بے وفا کہوں منزلوں کی بات ہے راستے میں کیا کہوں
قدم مے خانہ میں رکھنا بھی کار پختہ کاراں ہے جو پیمانہ اٹھاتے ہیں وہ تھرایا نہیں کرتے
میری آنکھوں میں ہیں آنسو تیرے دامن میں بہار گل بنا سکتا ہے تو شبنم بنا سکتا ہوں میں
زمانہ یاد کرے یا صبا کرے خاموش ہم اک چراغ محبت جلائے جاتے ہیں
یہی کانٹے تو کچھ خوددار ہیں صحن گلستاں میں کہ شبنم کے لیے دامن تو پھیلایا نہیں کرتے
زندگی پرچھائیاں اپنی لیے آئنوں کے درمیاں سے آئی ہے
حقیقت جس جگہ ہوتی ہے تابانی بتاتی ہے کوئی پردے میں ہوتا ہے تو چلمن جگمگاتی ہے
ہستی کا نظارہ کیا کہئے مرتا ہے کوئی جیتا ہے کوئی جیسے کہ دوالی ہو کہ دیا جلتا جائے بجھتا جائے
ہے شام ابھی کیا ہے بہکی ہوئی باتیں ہیں کچھ رات ڈھلے ساقی مے خانہ سنبھلتا ہے
خاک اور خون سے اک شمع جلائی ہے نشورؔ موت سے ہم نے بھی سیکھی ہے حیات آرائی
اغیار کو گل پیرہنی ہم نے عطا کی اپنے لیے پھولوں کا کفن ہم نے بنایا
نشورؔ آلودۂ عصیاں سہی پر کون باقی ہے یہ باتیں راز کی ہیں قبلۂ عالم بھی پیتے ہیں
انجام وفا یہ ہے جس نے بھی محبت کی مرنے کی دعا مانگی جینے کی سزا پائی
دیا خاموش ہے لیکن کسی کا دل تو جلتا ہے چلے آؤ جہاں تک روشنی معلوم ہوتی ہے
میں ابھی سے کس طرح ان کو بے وفا کہوں منزلوں کی بات ہے راستے میں کیا کہوں
قدم مے خانہ میں رکھنا بھی کار پختہ کاراں ہے جو پیمانہ اٹھاتے ہیں وہ تھرایا نہیں کرتے
میری آنکھوں میں ہیں آنسو تیرے دامن میں بہار گل بنا سکتا ہے تو شبنم بنا سکتا ہوں میں
زمانہ یاد کرے یا صبا کرے خاموش ہم اک چراغ محبت جلائے جاتے ہیں
یہی کانٹے تو کچھ خوددار ہیں صحن گلستاں میں کہ شبنم کے لیے دامن تو پھیلایا نہیں کرتے
زندگی پرچھائیاں اپنی لیے آئنوں کے درمیاں سے آئی ہے
حقیقت جس جگہ ہوتی ہے تابانی بتاتی ہے کوئی پردے میں ہوتا ہے تو چلمن جگمگاتی ہے
ہستی کا نظارہ کیا کہئے مرتا ہے کوئی جیتا ہے کوئی جیسے کہ دوالی ہو کہ دیا جلتا جائے بجھتا جائے
ہے شام ابھی کیا ہے بہکی ہوئی باتیں ہیں کچھ رات ڈھلے ساقی مے خانہ سنبھلتا ہے
خاک اور خون سے اک شمع جلائی ہے نشورؔ موت سے ہم نے بھی سیکھی ہے حیات آرائی
اغیار کو گل پیرہنی ہم نے عطا کی اپنے لیے پھولوں کا کفن ہم نے بنایا
نشورؔ آلودۂ عصیاں سہی پر کون باقی ہے یہ باتیں راز کی ہیں قبلۂ عالم بھی پیتے ہیں
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Shayari of Nushoor Wahidi FAQs
One of the most prominent Top 20 me kya milega?
One of the most prominent ke selected sher readable cards, internal detail links, aur writer discovery ke saath milenge.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.