وہ زہر دیتا تو سب کی نگہ میں آ جاتا سو یہ کیا کہ مجھے وقت پہ دوائیں نہ دیں
Poetry Collection
Dhoka
While truthfulness is one reality, deceit is another. It has an added meaning with respect to lovers. It brings suffering and pain and causes untold misery to them. These verses would take you closer to this experience.
Total
52
Sher
49
Ghazal
3
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائے کوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے
مدت ہوئی اک شخص نے دل توڑ دیا تھا اس واسطے اپنوں سے محبت نہیں کرتے
زخم لگا کر اس کا بھی کچھ ہاتھ کھلا میں بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ہوا
باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
فاصلہ نظروں کا دھوکہ بھی تو ہو سکتا ہے وہ ملے یا نہ ملے ہاتھ بڑھا کر دیکھو
ہم اسے یاد بہت آئیں گے جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا
عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے دل یہ کہتا ہے فریب دوست کھاتے جائیے
آدمی جان کے کھاتا ہے محبت میں فریب خود فریبی ہی محبت کا صلہ ہو جیسے
دھوکا تھا نگاہوں کا مگر خوب تھا دھوکا مجھ کو تری نظروں میں محبت نظر آئی
سمجھا لیا فریب سے مجھ کو تو آپ نے دل سے تو پوچھ لیجیے کیوں بے قرار ہے
یار میں اتنا بھوکا ہوں دھوکا بھی کھا لیتا ہوں
خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا
ہر چند اعتبار میں دھوکے بھی ہیں مگر یہ تو نہیں کسی پہ بھروسا کیا نہ جائے
جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں
کس نے وفا کے نام پہ دھوکا دیا مجھے کس سے کہوں کہ میرا گنہ گار کون ہے
چمن کے رنگ و بو نے اس قدر دھوکا دیا مجھ کو کہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی
ایسے ملا ہے ہم سے شناسا کبھی نہ تھا وہ یوں بدل ہی جائے گا سوچا کبھی نہ تھا
کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی
احباب کو دے رہا ہوں دھوکا چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں
وہ زہر دیتا تو سب کی نگہ میں آ جاتا سو یہ کیا کہ مجھے وقت پہ دوائیں نہ دیں
ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائے کوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے
مدت ہوئی اک شخص نے دل توڑ دیا تھا اس واسطے اپنوں سے محبت نہیں کرتے
زخم لگا کر اس کا بھی کچھ ہاتھ کھلا میں بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ہوا
باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی
عاشقی میں بہت ضروری ہے بے وفائی کبھی کبھی کرنا
ہم اسے یاد بہت آئیں گے جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا
وفاؤں کے بدلے جفا کر رہے ہیں میں کیا کر رہا ہوں وہ کیا کر رہے ہیں
آدمی جان کے کھاتا ہے محبت میں فریب خود فریبی ہی محبت کا صلہ ہو جیسے
اک سفر میں کوئی دو بار نہیں لٹ سکتا اب دوبارہ تری چاہت نہیں کی جا سکتی
احباب کو دے رہا ہوں دھوکا چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں
سمجھا لیا فریب سے مجھ کو تو آپ نے دل سے تو پوچھ لیجیے کیوں بے قرار ہے
یار میں اتنا بھوکا ہوں دھوکا بھی کھا لیتا ہوں
خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا
ہر چند اعتبار میں دھوکے بھی ہیں مگر یہ تو نہیں کسی پہ بھروسا کیا نہ جائے
جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں
کس نے وفا کے نام پہ دھوکا دیا مجھے کس سے کہوں کہ میرا گنہ گار کون ہے
چمن کے رنگ و بو نے اس قدر دھوکا دیا مجھ کو کہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی
ایسے ملا ہے ہم سے شناسا کبھی نہ تھا وہ یوں بدل ہی جائے گا سوچا کبھی نہ تھا
Explore Similar Collections
Dhoka FAQs
Dhoka collection me kya milega?
Dhoka se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.