Poetry Collection

Dhoka

While truthfulness is one reality, deceit is another. It has an added meaning with respect to lovers. It brings suffering and pain and causes untold misery to them. These verses would take you closer to this experience.

Total

52

Sher

49

Ghazal

3

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

وہ زہر دیتا تو سب کی نگہ میں آ جاتا سو یہ کیا کہ مجھے وقت پہ دوائیں نہ دیں

ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائے کوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے

مدت ہوئی اک شخص نے دل توڑ دیا تھا اس واسطے اپنوں سے محبت نہیں کرتے

زخم لگا کر اس کا بھی کچھ ہاتھ کھلا میں بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ہوا

باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

فاصلہ نظروں کا دھوکہ بھی تو ہو سکتا ہے وہ ملے یا نہ ملے ہاتھ بڑھا کر دیکھو

عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے دل یہ کہتا ہے فریب دوست کھاتے جائیے

~ Mahirul Qadri

آدمی جان کے کھاتا ہے محبت میں فریب خود فریبی ہی محبت کا صلہ ہو جیسے

دھوکا تھا نگاہوں کا مگر خوب تھا دھوکا مجھ کو تری نظروں میں محبت نظر آئی

~ Shaukat Thanvi

خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا

ہر چند اعتبار میں دھوکے بھی ہیں مگر یہ تو نہیں کسی پہ بھروسا کیا نہ جائے

جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں

کس نے وفا کے نام پہ دھوکا دیا مجھے کس سے کہوں کہ میرا گنہ گار کون ہے

چمن کے رنگ و بو نے اس قدر دھوکا دیا مجھ کو کہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی

ایسے ملا ہے ہم سے شناسا کبھی نہ تھا وہ یوں بدل ہی جائے گا سوچا کبھی نہ تھا

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی

وہ زہر دیتا تو سب کی نگہ میں آ جاتا سو یہ کیا کہ مجھے وقت پہ دوائیں نہ دیں

ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائے کوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے

مدت ہوئی اک شخص نے دل توڑ دیا تھا اس واسطے اپنوں سے محبت نہیں کرتے

زخم لگا کر اس کا بھی کچھ ہاتھ کھلا میں بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ہوا

باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی

وفاؤں کے بدلے جفا کر رہے ہیں میں کیا کر رہا ہوں وہ کیا کر رہے ہیں

آدمی جان کے کھاتا ہے محبت میں فریب خود فریبی ہی محبت کا صلہ ہو جیسے

اک سفر میں کوئی دو بار نہیں لٹ سکتا اب دوبارہ تری چاہت نہیں کی جا سکتی

خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا

ہر چند اعتبار میں دھوکے بھی ہیں مگر یہ تو نہیں کسی پہ بھروسا کیا نہ جائے

جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں

کس نے وفا کے نام پہ دھوکا دیا مجھے کس سے کہوں کہ میرا گنہ گار کون ہے

چمن کے رنگ و بو نے اس قدر دھوکا دیا مجھ کو کہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی

ایسے ملا ہے ہم سے شناسا کبھی نہ تھا وہ یوں بدل ہی جائے گا سوچا کبھی نہ تھا

Explore Similar Collections

Dhoka FAQs

Dhoka collection me kya milega?

Dhoka se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.