دھوپ نے گزارش کی ایک بوند بارش کی
Poetry Collection
Dhoop
Soft sun can be pleasant and thrilling but the scorching sun can be troublesome, making it impossible to bear. Also, sun punctuates shade and brings a facet of nature that is rich with seasonal variety. You may like to experience that burn in these verses.
Total
47
Sher
46
Ghazal
1
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیے وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے
جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے زخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے
یہ دھوپ تو ہر رخ سے پریشان کرے گی کیوں ڈھونڈ رہے ہو کسی دیوار کا سایہ
ذرا یہ دھوپ ڈھل جائے تو ان کا حال پوچھیں گے یہاں کچھ سائے اپنے آپ کو پیکر بتاتے ہیں
وہ سردیوں کی دھوپ کی طرح غروب ہو گیا لپٹ رہی ہے یاد جسم سے لحاف کی طرح
ہم فقیروں کا پیرہن ہے دھوپ اور یہ رات اپنی چادر ہے
یہ انتقام ہے یا احتجاج ہے کیا ہے یہ لوگ دھوپ میں کیوں ہیں شجر کے ہوتے ہوئے
نقاب رخ اٹھایا جا رہا ہے وہ نکلی دھوپ سایہ جا رہا ہے
اب شہر آرزو میں وہ رعنائیاں کہاں ہیں گل کدے نڈھال بڑی تیز دھوپ ہے
سارا دن تپتے سورج کی گرمی میں جلتے رہے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا پھر چلی سو رہو سو رہو
کچھ اب کے دھوپ کا ایسا مزاج بگڑا ہے درخت بھی تو یہاں سائبان مانگتے ہیں
نیند ٹوٹی ہے تو احساس زیاں بھی جاگا دھوپ دیوار سے آنگن میں اتر آئی ہے
بستی بستی پربت پربت وحشت کی ہے دھوپ ضیاؔ چاروں جانب ویرانی ہے دل کا اک ویرانہ کیا
اس دشت سخن میں کوئی کیا پھول کھلائے چمکی جو ذرا دھوپ تو جلنے لگے سائے
کون جانے کہ اڑتی ہوئی دھوپ بھی کس طرف کون سی منزلوں میں گئی
دھوپ بڑھتے ہی جدا ہو جائے گا سایۂ دیوار بھی دیوار سے
کوئی تصویر مکمل نہیں ہونے پاتی دھوپ دیتے ہیں تو سایا نہیں رہنے دیتے
ترے آنے کا دن ہے تیرے رستے میں بچھانے کو چمکتی دھوپ میں سائے اکٹھے کر رہا ہوں میں
جہاں ڈالے تھے اس نے دھوپ میں کپڑے سکھانے کو ٹپکتی ہیں ابھی تک رسیاں آہستہ آہستہ
دھوپ نے گزارش کی ایک بوند بارش کی
دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیے وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے
جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے زخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے
یہ دھوپ تو ہر رخ سے پریشان کرے گی کیوں ڈھونڈ رہے ہو کسی دیوار کا سایہ
ذرا یہ دھوپ ڈھل جائے تو ان کا حال پوچھیں گے یہاں کچھ سائے اپنے آپ کو پیکر بتاتے ہیں
وہ سردیوں کی دھوپ کی طرح غروب ہو گیا لپٹ رہی ہے یاد جسم سے لحاف کی طرح
کب دھوپ چلی شام ڈھلی کس کو خبر ہے اک عمر سے میں اپنے ہی سائے میں کھڑا ہوں
علویؔ یہ معجزہ ہے دسمبر کی دھوپ کا سارے مکان شہر کے دھوئے ہوئے سے ہیں
یہ انتقام ہے یا احتجاج ہے کیا ہے یہ لوگ دھوپ میں کیوں ہیں شجر کے ہوتے ہوئے
اس کو بھی میری طرح اپنی وفا پر تھا یقیں وہ بھی شاید اسی دھوکے میں ملا تھا مجھ کو
نقاب رخ اٹھایا جا رہا ہے وہ نکلی دھوپ سایہ جا رہا ہے
جہاں ڈالے تھے اس نے دھوپ میں کپڑے سکھانے کو ٹپکتی ہیں ابھی تک رسیاں آہستہ آہستہ
مرے سائے میں اس کا نقش پا ہے بڑا احسان مجھ پر دھوپ کا ہے
سارا دن تپتے سورج کی گرمی میں جلتے رہے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا پھر چلی سو رہو سو رہو
دیوار ان کے گھر کی مری دھوپ لے گئی یہ بات بھولنے میں زمانہ لگا مجھے
نیند ٹوٹی ہے تو احساس زیاں بھی جاگا دھوپ دیوار سے آنگن میں اتر آئی ہے
دھوپ بولی کہ میں آبائی وطن ہوں تیرا میں نے پھر سایۂ دیوار کو زحمت نہیں دی
اس دشت سخن میں کوئی کیا پھول کھلائے چمکی جو ذرا دھوپ تو جلنے لگے سائے
کس نے صحرا میں مرے واسطے رکھی ہے یہ چھاؤں دھوپ روکے ہے مرا چاہنے والا کیسا
دھوپ بڑھتے ہی جدا ہو جائے گا سایۂ دیوار بھی دیوار سے
Explore Similar Collections
Dhoop FAQs
Dhoop collection me kya milega?
Dhoop se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.