دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
Poetry Collection
Dil
Reading these verses, you would pass through various states that the human heart takes us through. You would wonder how these verses written by others are indeed the true voice of our own feelings. They seem to express our own desires and passion, sadness and deprivation, as also our experience of separation in the midst of an elusive hope for union.
Total
69
Sher
50
Ghazal
19
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
زندگی کس طرح بسر ہوگی دل نہیں لگ رہا محبت میں
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا وہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
تم زمانے کی راہ سے آئے ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا
شیشہ ٹوٹے غل مچ جائے دل ٹوٹے آواز نہ آئے
ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا مسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیا
مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں دوستوں کی مہربانی چاہئے
دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے
دیا خاموش ہے لیکن کسی کا دل تو جلتا ہے چلے آؤ جہاں تک روشنی معلوم ہوتی ہے
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے
میں ہوں دل ہے تنہائی ہے تم بھی ہوتے اچھا ہوتا
دل دے تو اس مزاج کا پروردگار دے جو رنج کی گھڑی بھی خوشی سے گزار دے
ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں دل ہمیشہ اداس رہتا ہے
محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے مگر مشکل تو یہ ہے دل بڑی مشکل سے ملتا ہے
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں
تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا وہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا
دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے کمرہ ویراں ہو جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سے
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں
تم زمانے کی راہ سے آئے ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا
شیشہ ٹوٹے غل مچ جائے دل ٹوٹے آواز نہ آئے
آپ پہلو میں جو بیٹھیں تو سنبھل کر بیٹھیں دل بیتاب کو عادت ہے مچل جانے کی
میں ہوں دل ہے تنہائی ہے تم بھی ہوتے اچھا ہوتا
دل دے تو اس مزاج کا پروردگار دے جو رنج کی گھڑی بھی خوشی سے گزار دے
مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا
ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں دل ہمیشہ اداس رہتا ہے
دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے جو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے
دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں دوستوں کی مہربانی چاہئے
میری قسمت میں غم گر اتنا تھا دل بھی یارب کئی دیے ہوتے
دیا خاموش ہے لیکن کسی کا دل تو جلتا ہے چلے آؤ جہاں تک روشنی معلوم ہوتی ہے
محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے مگر مشکل تو یہ ہے دل بڑی مشکل سے ملتا ہے
Explore Similar Collections
Dil FAQs
Dil collection me kya milega?
Dil se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.