Poetry Collection

Dost

Good creative literature carries us beyond the world of common apprehensions and helps us discover new vistas of life and living. There, we discover a new logic of our existence. Are you aware of those aspects about friends and friendship that poetry appropriates? These verses would surprise you with the richness of perspectives on the figure of the friend and the experience of friendship. Read them and get to know your friends and friendship in diverse ways.

Total

74

Sher

50

Ghazal

24

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا جونؔ یاروں کے یار تھے ہم تو

دوستی جب کسی سے کی جائے دشمنوں کی بھی رائے لی جائے

میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے میں ہوں درد عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دعا نہ دے

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے ہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے

یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

پتھر تو ہزاروں نے مارے تھے مجھے لیکن جو دل پہ لگا آ کر اک دوست نے مارا ہے

مسیح و خضر کی عمریں نثار ہوں اس پر وہ ایک لمحہ جو یاروں کے درمیاں گزرے

دوستوں سے ملاقات کی شام ہے یہ سزا کاٹ کر اپنے گھر جاؤں گا

پرانے یار بھی آپس میں اب نہیں ملتے نہ جانے کون کہاں دل لگا کے بیٹھ گیا

بہاروں کی نظر میں پھول اور کانٹے برابر ہیں محبت کیا کریں گے دوست دشمن دیکھنے والے

مجھے دوست کہنے والے ذرا دوستی نبھا دے یہ مطالبہ ہے حق کا کوئی التجا نہیں ہے

دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا رب میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں

نہ اداس ہو نہ ملال کر کسی بات کا نہ خیال کر کئی سال بعد ملے ہیں ہم تیرے نام آج کی شام ہے

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا جونؔ یاروں کے یار تھے ہم تو

دوستی جب کسی سے کی جائے دشمنوں کی بھی رائے لی جائے

میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے میں ہوں درد عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دعا نہ دے

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

دشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیں دیکھنا ہے کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون

داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے ہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے

مجھے دوست کہنے والے ذرا دوستی نبھا دے یہ مطالبہ ہے حق کا کوئی التجا نہیں ہے

دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا رب میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے

نہ اداس ہو نہ ملال کر کسی بات کا نہ خیال کر کئی سال بعد ملے ہیں ہم تیرے نام آج کی شام ہے

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

مسیح و خضر کی عمریں نثار ہوں اس پر وہ ایک لمحہ جو یاروں کے درمیاں گزرے

دوستوں سے ملاقات کی شام ہے یہ سزا کاٹ کر اپنے گھر جاؤں گا

پرانے یار بھی آپس میں اب نہیں ملتے نہ جانے کون کہاں دل لگا کے بیٹھ گیا

بہاروں کی نظر میں پھول اور کانٹے برابر ہیں محبت کیا کریں گے دوست دشمن دیکھنے والے

Explore Similar Collections

Dost FAQs

Dost collection me kya milega?

Dost se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.