دائم آباد رہے گی دنیا ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا
Poetry Collection
Duniya
We all have developed our own perspectives on the world we live in. In this act of belonging to this world, there is much that is entirely our own. Yet, there is much that has been left behind. Reading these verses on the world, you would come across certain realities that only the creative minds can explore. These verses create a larger context for you to look at this phenomenon called the world.
Total
62
Sher
51
Ghazal
11
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
yeh kaayenaat behad haseen hai magar unke liye jo jeena jaante hain.
یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے
گھر کے باہر ڈھونڈھتا رہتا ہوں دنیا گھر کے اندر دنیا داری رہتی ہے
دنیا تو چاہتی ہے یونہی فاصلے رہیں دنیا کے مشوروں پہ نہ جا اس گلی میں چل
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
تھوڑی سی عقل لائے تھے ہم بھی مگر عدمؔ دنیا کے حادثات نے دیوانہ کر دیا
اک نظر کا فسانہ ہے دنیا سو کہانی ہے اک کہانی سے
یہ دنیا غم تو دیتی ہے شریک غم نہیں ہوتی کسی کے دور جانے سے محبت کم نہیں ہوتی
راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی
ہاتھ دنیا کا بھی ہے دل کی خرابی میں بہت پھر بھی اے دوست تری ایک نظر سے کم ہے
لمحے اداس اداس فضائیں گھٹی گھٹی دنیا اگر یہی ہے تو دنیا سے بچ کے چل
بھول شاید بہت بڑی کر لی دل نے دنیا سے دوستی کر لی
جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا بچوں کے اسکول میں شاید تم سے ملی نہیں ہے دنیا
دائم آباد رہے گی دنیا ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا
yeh kaayenaat behad haseen hai magar unke liye jo jeena jaante hain.
یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے
چلے تو پاؤں کے نیچے کچل گئی کوئی شے نشے کی جھونک میں دیکھا نہیں کہ دنیا ہے
جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے
گھر کے باہر ڈھونڈھتا رہتا ہوں دنیا گھر کے اندر دنیا داری رہتی ہے
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
غم زمانہ نے مجبور کر دیا ورنہ یہ آرزو تھی کہ بس تیری آرزو کرتے
جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا بچوں کے اسکول میں شاید تم سے ملی نہیں ہے دنیا
اک نظر کا فسانہ ہے دنیا سو کہانی ہے اک کہانی سے
یہ دنیا غم تو دیتی ہے شریک غم نہیں ہوتی کسی کے دور جانے سے محبت کم نہیں ہوتی
راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی
ہاتھ دنیا کا بھی ہے دل کی خرابی میں بہت پھر بھی اے دوست تری ایک نظر سے کم ہے
پاؤں جب سمٹے تو رستے بھی ہوئے تکیہ نشیں بوریا جب تہ کیا دنیا اٹھا کر لے گئے
Explore Similar Collections
Duniya FAQs
Duniya collection me kya milega?
Duniya se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.