تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے
Poetry Collection
Eyes
Eyes don’t only see what appears before them; they go deeper and see much more than the obvious and the visible. Urdu poetry celebrates the lovers’ eyes in most unusual ways. They both attract and repel and bring pleasure and pain accordingly. You would come across such experiences and many more when you would go through this selection.
Total
71
Sher
50
Ghazal
21
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں ہاں مجھی کو خراب ہونا تھا
خدا بچائے تری مست مست آنکھوں سے فرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہے
کبھی کبھی تو چھلک پڑتی ہیں یوں ہی آنکھیں اداس ہونے کا کوئی سبب نہیں ہوتا
جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے وہ دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں
اک حسیں آنکھ کے اشارے پر قافلے راہ بھول جاتے ہیں
آنکھ رہزن نہیں تو پھر کیا ہے لوٹ لیتی ہے قافلہ دل کا
آ جائے نہ دل آپ کا بھی اور کسی پر دیکھو مری جاں آنکھ لڑانا نہیں اچھا
لڑنے کو دل جو چاہے تو آنکھیں لڑائیے ہو جنگ بھی اگر تو مزے دار جنگ ہو
پیمانہ کہے ہے کوئی مے خانہ کہے ہے دنیا تری آنکھوں کو بھی کیا کیا نہ کہے ہے
آنکھ سے آنکھ جب نہیں ملتی دل سے دل ہم کلام ہوتا ہے
لوگ نظروں کو بھی پڑھ لیتے ہیں اپنی آنکھوں کو جھکائے رکھنا
ذرا دیر بیٹھے تھے تنہائی میں تری یاد آنکھیں دکھانے لگی
طلب کریں تو یہ آنکھیں بھی ان کو دے دوں میں مگر یہ لوگ ان آنکھوں کے خواب مانگتے ہیں
ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن زباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیں
ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا
شبنم کے آنسو پھول پر یہ تو وہی قصہ ہوا آنکھیں مری بھیگی ہوئی چہرہ ترا اترا ہوا
آنکھیں جو اٹھائے تو محبت کا گماں ہو نظروں کو جھکائے تو شکایت سی لگے ہے
میں ڈر رہا ہوں تمہاری نشیلی آنکھوں سے کہ لوٹ لیں نہ کسی روز کچھ پلا کے مجھے
جب ترے نین مسکراتے ہیں زیست کے رنج بھول جاتے ہیں
تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے
تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں ہاں مجھی کو خراب ہونا تھا
ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن زباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیں
ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا
کبھی کبھی تو چھلک پڑتی ہیں یوں ہی آنکھیں اداس ہونے کا کوئی سبب نہیں ہوتا
میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں ساری مستی شراب کی سی ہے
اک حسیں آنکھ کے اشارے پر قافلے راہ بھول جاتے ہیں
اس کی آنکھوں کو غور سے دیکھو مندروں میں چراغ جلتے ہیں
آنکھ رہزن نہیں تو پھر کیا ہے لوٹ لیتی ہے قافلہ دل کا
شبنم کے آنسو پھول پر یہ تو وہی قصہ ہوا آنکھیں مری بھیگی ہوئی چہرہ ترا اترا ہوا
حسیں تیری آنکھیں حسیں تیرے آنسو یہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے
آ جائے نہ دل آپ کا بھی اور کسی پر دیکھو مری جاں آنکھ لڑانا نہیں اچھا
لڑنے کو دل جو چاہے تو آنکھیں لڑائیے ہو جنگ بھی اگر تو مزے دار جنگ ہو
پیمانہ کہے ہے کوئی مے خانہ کہے ہے دنیا تری آنکھوں کو بھی کیا کیا نہ کہے ہے
آنکھ سے آنکھ جب نہیں ملتی دل سے دل ہم کلام ہوتا ہے
میں ڈر رہا ہوں تمہاری نشیلی آنکھوں سے کہ لوٹ لیں نہ کسی روز کچھ پلا کے مجھے
لوگ نظروں کو بھی پڑھ لیتے ہیں اپنی آنکھوں کو جھکائے رکھنا
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں
طلب کریں تو یہ آنکھیں بھی ان کو دے دوں میں مگر یہ لوگ ان آنکھوں کے خواب مانگتے ہیں
آنکھیں خدا نے دی ہیں تو دیکھیں گے حسن یار کب تک نقاب رخ سے اٹھائی نہ جائے گی
Explore Similar Collections
Eyes FAQs
Eyes collection me kya milega?
Eyes se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.