مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
Poetry Collection
Famous shayari
You must have heard most of these shers. They may also be lying in your memory which you recall when a situation demands and when you need to recite them. These shers of proverbial nature have been put together at one place for your convenience. Enjoy.
Total
78
Sher
50
Ghazal
28
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
عشق نے غالبؔ نکما کر دیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب آج تم یاد بے حساب آئے
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
عشق نے غالبؔ نکما کر دیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب آج تم یاد بے حساب آئے
تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹے تری رہبری کا سوال ہے ہمیں راہزن سے غرض نہیں
اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
Explore Similar Collections
Famous shayari FAQs
Famous shayari collection me kya milega?
Famous shayari se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.