Poetry Collection

Farewell

Meeting, or union, is one condition of life while separation, or bidding farewell, is another. It instills strange feelings in us—it leaves us sad but sometimes even happy at the prospect of yet another meeting. Have a look at the various moods of farewell here in this section.

Total

54

Sher

45

Ghazal

9

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا

اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھا سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا

جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائی دل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی

چھوڑنے میں نہیں جاتا اسے دروازے تک لوٹ آتا ہوں کہ اب کون اسے جاتا دیکھے

عجیب ہوتے ہیں آداب رخصت محفل کہ وہ بھی اٹھ کے گیا جس کا گھر نہ تھا کوئی

یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل

اس سے ملنے کی خوشی بعد میں دکھ دیتی ہے جشن کے بعد کا سناٹا بہت کھلتا ہے

گونجتے رہتے ہیں الفاظ مرے کانوں میں تو تو آرام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ

تیرے پیمانے میں گردش نہیں باقی ساقی اور تری بزم سے اب کوئی اٹھا چاہتا ہے

کلیجہ رہ گیا اس وقت پھٹ کر کہا جب الوداع اس نے پلٹ کر

میں جانتا ہوں مرے بعد خوب روئے گا روانہ کر تو رہا ہے وہ ہنستے ہنستے مجھے

تم اسی موڑ پر ہمیں ملنا لوٹ کر ہم ضرور آئیں گے

~ Nazar Aitawi

جادہ جادہ چھوڑ جاؤ اپنی یادوں کے نقوش آنے والے کارواں کے رہنما بن کر چلو

تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا

اب تم کبھی نہ آؤ گے یعنی کبھی کبھی رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

یہ ایک پیڑ ہے آ اس سے مل کے رو لیں ہم یہاں سے تیرے مرے راستے بدلتے ہیں

اسے جانے کی جلدی تھی سو میں آنکھوں ہی آنکھوں میں جہاں تک چھوڑ سکتا تھا وہاں تک چھوڑ آیا ہوں

وقت رخصت الوداع کا لفظ کہنے کے لیے وہ ترے سوکھے لبوں کا تھرتھرانا یاد ہے

تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا

اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھا سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا

جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائی دل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی

تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا

چھوڑنے میں نہیں جاتا اسے دروازے تک لوٹ آتا ہوں کہ اب کون اسے جاتا دیکھے

جانے والے کو کہاں روک سکا ہے کوئی تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں

عجیب ہوتے ہیں آداب رخصت محفل کہ وہ بھی اٹھ کے گیا جس کا گھر نہ تھا کوئی

یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل

تم سنو یا نہ سنو ہاتھ بڑھاؤ نہ بڑھاؤ ڈوبتے ڈوبتے اک بار پکاریں گے تمہیں

اس سے ملنے کی خوشی بعد میں دکھ دیتی ہے جشن کے بعد کا سناٹا بہت کھلتا ہے

یہ گھر مرا گلشن ہے گلشن کا خدا حافظ اللہ نگہبان نشیمن کا خدا حافظ

ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والی یاد تو ہوں گے تجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہم

تیرے پیمانے میں گردش نہیں باقی ساقی اور تری بزم سے اب کوئی اٹھا چاہتا ہے

وقت رخصت الوداع کا لفظ کہنے کے لیے وہ ترے سوکھے لبوں کا تھرتھرانا یاد ہے

اس سے ملے زمانہ ہوا لیکن آج بھی دل سے دعا نکلتی ہے خوش ہو جہاں بھی ہو

میں جانتا ہوں مرے بعد خوب روئے گا روانہ کر تو رہا ہے وہ ہنستے ہنستے مجھے

دکھ کے سفر پہ دل کو روانہ تو کر دیا اب ساری عمر ہاتھ ہلاتے رہیں گے ہم

اب کے جاتے ہوئے اس طرح کیا اس نے سلام ڈوبنے والا کوئی ہاتھ اٹھائے جیسے

Explore Similar Collections

Farewell FAQs

Farewell collection me kya milega?

Farewell se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.