لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
Poetry Collection
Fasad
Rioting among human beings is an ugly reality. Poets have not put this reality aside; in fact they have commented on the ills of rioting in their own creative ways. Here is a sampler to help you see the ugliness of violence and appreciate how it damages us.
Total
27
Sher
20
Ghazal
7
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں ڈھونڈوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا
جو دل کو ہے خبر کہیں ملتی نہیں خبر ہر صبح اک عذاب ہے اخبار دیکھنا
بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو
دیوار و در پہ خون کے چھینٹے ہیں جا بہ جا بکھرا ہوا ہے رنگ حنا تیرے شہر میں
جنوں کو ہوش کہاں اہتمام غارت کا فساد جو بھی جہاں میں ہوا خرد سے ہوا
چاروں طرف ہیں شعلے ہمسائے جل رہے ہیں میں گھر میں بیٹھا بیٹھا بس ہاتھ مل رہا ہوں
یہ کون آگ لگانے پہ ہے یہاں مامور یہ کون شہر کو مقتل بنانے والا ہے
گھروں میں قید ہیں بستی کے شرفا سڑک پر ہیں فسادی اور غنڈے
ہر ایک کوچہ ہے ساکت ہر اک سڑک ویراں ہمارے شہر میں تقریر کر گیا یہ کون
ہر ایک شاخ تھی لرزاں فضا میں چیخ و پکار ہوا کے ہاتھ میں اک آب دار خنجر تھا
ایسی ہوا بہی کہ ہے چاروں طرف فساد جز سایۂ خدا کہیں دارالاماں نہیں
یہاں ایک بچے کے خون سے جو لکھا ہوا ہے اسے پڑھیں ترا کیرتن ابھی پاپ ہے ابھی میرا سجدہ حرام ہے
جلے مکانوں میں بھوت بیٹھے بڑی متانت سے سوچتے ہیں کہ جنگلوں سے نکل کر آنے کی کیا ضرورت تھی آدمی کو
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں ڈھونڈوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا
تم ابھی شہر میں کیا نئے آئے ہو رک گئے راہ میں حادثہ دیکھ کر
جو دل کو ہے خبر کہیں ملتی نہیں خبر ہر صبح اک عذاب ہے اخبار دیکھنا
یہاں ایک بچے کے خون سے جو لکھا ہوا ہے اسے پڑھیں ترا کیرتن ابھی پاپ ہے ابھی میرا سجدہ حرام ہے
اس قدر میں نے سلگتے ہوئے گھر دیکھے ہیں اب تو چبھنے لگے آنکھوں میں اجالے مجھ کو
جنوں کو ہوش کہاں اہتمام غارت کا فساد جو بھی جہاں میں ہوا خرد سے ہوا
میں جاگ جاگ کے کس کس کا انتظار کروں جو لوگ گھر نہیں پہنچے وہ مر گئے ہوں گے
جلے مکانوں میں بھوت بیٹھے بڑی متانت سے سوچتے ہیں کہ جنگلوں سے نکل کر آنے کی کیا ضرورت تھی آدمی کو
یہ کون آگ لگانے پہ ہے یہاں مامور یہ کون شہر کو مقتل بنانے والا ہے
گھروں میں قید ہیں بستی کے شرفا سڑک پر ہیں فسادی اور غنڈے
ہر ایک کوچہ ہے ساکت ہر اک سڑک ویراں ہمارے شہر میں تقریر کر گیا یہ کون
ہر ایک شاخ تھی لرزاں فضا میں چیخ و پکار ہوا کے ہاتھ میں اک آب دار خنجر تھا
ایسی ہوا بہی کہ ہے چاروں طرف فساد جز سایۂ خدا کہیں دارالاماں نہیں
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Fasad FAQs
Fasad collection me kya milega?
Fasad se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.