Poetry Collection

Ghar

Home, or abode, is something that all of us desire to have. Its importance is best realized in a state of homelessness. As a visual image, or a symbol, home has been much written about. Strange configurations of home are available both in the classical and modern poetry in Urdu. You have some examples here.

Total

55

Sher

50

Ghazal

5

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزاد شام ہونے کو ہے اب گھر کی طرف لوٹ چلو

سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں جاتا

دوستوں سے ملاقات کی شام ہے یہ سزا کاٹ کر اپنے گھر جاؤں گا

گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہو سکتی ہے اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے

مجھے بھی لمحۂ ہجرت نے کر دیا تقسیم نگاہ گھر کی طرف ہے قدم سفر کی طرف

یہ دشت وہ ہے جہاں راستہ نہیں ملتا ابھی سے لوٹ چلو گھر ابھی اجالا ہے

گریز پا ہے نیا راستہ کدھر جائیں چلو کہ لوٹ کے ہم اپنے اپنے گھر جائیں

در بہ در ٹھوکریں کھائیں تو یہ معلوم ہوا گھر کسے کہتے ہیں کیا چیز ہے بے گھر ہونا

ہم نے گھر کی سلامتی کے لئے خود کو گھر سے نکال رکھا ہے

کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا

کب آؤ گے یہ گھر نے مجھ سے چلتے وقت پوچھا تھا یہی آواز اب تک گونجتی ہے میرے کانوں میں

درد ہجرت کے ستائے ہوئے لوگوں کو کہیں سایۂ در بھی نظر آئے تو گھر لگتا ہے

اب تک نہ خبر تھی مجھے اجڑے ہوئے گھر کی وہ آئے تو گھر بے سر و ساماں نظر آیا

تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں

مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں

پہلے ہر چیز تھی اپنی مگر اب لگتا ہے اپنے ہی گھر میں کسی دوسرے گھر کے ہم ہیں

کس سے پوچھوں کہ کہاں گم ہوں کئی برسوں سے ہر جگہ ڈھونڈھتا پھرتا ہے مجھے گھر میرا

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزاد شام ہونے کو ہے اب گھر کی طرف لوٹ چلو

سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں جاتا

دوستوں سے ملاقات کی شام ہے یہ سزا کاٹ کر اپنے گھر جاؤں گا

گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہو سکتی ہے اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے

مجھے بھی لمحۂ ہجرت نے کر دیا تقسیم نگاہ گھر کی طرف ہے قدم سفر کی طرف

گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

کبھی تو شام ڈھلے اپنے گھر گئے ہوتے کسی کی آنکھ میں رہ کر سنور گئے ہوتے

گریز پا ہے نیا راستہ کدھر جائیں چلو کہ لوٹ کے ہم اپنے اپنے گھر جائیں

کوئی بھی گھر میں سمجھتا نہ تھا مرے دکھ سکھ ایک اجنبی کی طرح میں خود اپنے گھر میں تھا

مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں

کس سے پوچھوں کہ کہاں گم ہوں کئی برسوں سے ہر جگہ ڈھونڈھتا پھرتا ہے مجھے گھر میرا

ہم نے گھر کی سلامتی کے لئے خود کو گھر سے نکال رکھا ہے

کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا

کب آؤ گے یہ گھر نے مجھ سے چلتے وقت پوچھا تھا یہی آواز اب تک گونجتی ہے میرے کانوں میں

درد ہجرت کے ستائے ہوئے لوگوں کو کہیں سایۂ در بھی نظر آئے تو گھر لگتا ہے

اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

Explore Similar Collections

Ghar FAQs

Ghar collection me kya milega?

Ghar se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.